یہ نکتہ ؔ یاد رہے کہ آیت و آخرین منہم میں آخرین کا لفظ مفعول کے محل پر واقع ہے گویا تمام آیت معہ اپنے الفاظ مقدرہ کے یوں ہے ھو الذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم ایتہ و یزکیھم و یعلمھم الکتاب والحکمۃ و یعلّم الآخرین منہم لما یلحقوا بھم یعنی ہمارے خالص اور کامل بندے بجز صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور بھی ہیں جن کا گروہ کثیر آخری زمانہ میں پیدا ہوگا اور جیسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی تربیت فرمائی ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس گروہ کی بھی باطنی طور پر تربیت فرمائیں گے یعنی وہ لوگ ایسے زمانہ میں آئیں گے کہ جس زمانہ میں ظاہری افادہ اور استفادہ کا سلسلہ منقطع ہوجائے گا اور مذہب اسلام بہت سی غلطیوں اور بدعتوں سے پر ہوجائے گا اور فقرا کے دلوں سے بھی باطنی روشنی جاتی ملائکہ اس کی نظر میں ضرور ثابت ہوجائیں گے اور اگر ایسا طالب دہر یہ ہے تو پہلے ہم وجود باری کا اس کو ثبوت دیں گیاور پھر اس بات کا ثبوت کہ خدا بجز اس کے ہو ہی نہیں سکتا چہارم اس کا کلام جامع تام مفصل ممیز کا مرتبہ جو سب نازل ہوچکا اور جمیع مضامین مقصودہ اور علوم حکمیہ و قصص و اخبار واحکام و قوانین و ضوابط و حدود و مواعید و انذارات و تبشیرات اور درشتی اور نرمی اور شدّت اور رحم اور حقائق و نکات پر بالاستیفا مشتمل ہے پنجم بلاغت و فصاحت کا مرتبہ جو زینت اور آرائش کے لئے اس کلام پر ازل سے چڑھائی گئی ششم برکت اور تاثیر اور کشش کی روح کا مرتبہ جو اس پاک کلام میں موجود ہے جس نے تمام کلام پر اپنی روشنی ڈالی اور اس کو زندہ اور منور کلام ثابت کیا۔ اسی طرح ہریک عاقل اور فصیح منشی کے کلام میں یہی چھ مراتب جمع ہوسکتے ہیں گو وہ کلام اعجازی حد تک نہیں پہنچتا کیونکہ جن حروف میں کوئی کلام لکھا جائے گا