پھیلنےؔ کا زمانہ ہوگا اور راستبازوں کو وہی مشکلات پیش آجائیں گی جو صحابہ رضی اللہ عنہم کو پیش آئی تھیں اس لئے وہ ثابت قدمی دکھلانے کے بعد صحابہ کے مرتبہ پر شمار ہوں گے لیکن درمیانی زمانہ فیج اعوج ہے جس میں بباعث رعب اور شوکت سلاطین اسلام اور کثرت اسباب تنعم صحابہ کے قدم پر قدم رکھنے والے اور ان کے مراتب کو ظلی طور پر حاصل کرنے والے بہت ہی کم تھے مگر آخری زمانہ اول زمانہ کے مشابہ ہوگا کیونکہ اس زمانہ کے لوگوں پر غربت طاری ہوجائے گی اور بجز ایمانی قوت کے اور کوئی سہارا بلاؤں کے مقابلہ پر ان کے لئے نہ ہوگا سو ان کا ایمان خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسا مضبوط اور ثابت ہوگا کہ اگر ایمان آسمان پر چلا جاتا تب بھی وہ اس کو زمین پر لے آتے یعنی ان پر زلزلے آئیں گے اور وہ آزمائے جائیں گے اور سخت فتنے ان کو گھیریں گے لیکن وہ ایسے وابرو باد وغیرہ کررہا ہے ان مصالح کے شناخت اور وضع شیء فی محلّہ کے قویٰ ہرگز ان چیزوں کو نہیں دیئے گئے جیسا کہ ابھی ہم ثابت کرچکے اور یہ بھی ثابت کرچکے کہ مضامین مقصودہ کو اپنے اندر جمع رکھتا ہے پھر پانچواں مرتبہ یہ ہے کہ ان سادہ فقرات اور عبارتوں پر بلاغت اور فصاحت کا رنگ چڑھایا جائے اور خوش بیانی کے نمک سے ملیح کیا جائے پھر چھٹا مرتبہ جو بلاتوقف اس مرتبہ کے تابع ہے یہ ہے کہ کلام میں اثر اندازی کی ایک جان پیدا ہوجائے جو دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیوے اور طبیعتوں میں گھر کر لیوے۔ اب غور کر کے دیکھ لو کہ یہ مراتب ستہ بکلی ان مراتب ستہ کی مانند اور ان کی مثیل ہیں جن کا قرآن کریم میں نطفہ علقہ مضغہ اور کچھ مضغہ اور کچھ عظام یعنی انسان کی شکل کا خاکہ اور انسان کی پوری شکل اور جاندار انسان نام رکھا ہے۔