ہےؔ غفلت کی موت گناہ کی موت شرک کی موتُ کفر کی موت سو یہ چاروں قسموں کی موت عیسائی مذہب میں موجود ہے۔ غفلت کی موت اس لئے کہ ان کی تمام قوتیں دنیا کی آرائشوں اور جمعیتوں کے لئے خرچ ہورہے ہیں اور خدا تعالیٰ میں اور اُن میں جو حجاب ہیں ان کے دور کرنے کے لئے ایک ذرہ بھی انہیں فکر نہیں اور گناہ کی موت اگر دیکھنی ہو تو یورپ کی سیر کرو اور دیکھو کہ ان لوگوں میں عفت اور پرہیزگاری اور پاکدامنی کس قدر باقی رہ گئی ہے اور شرک کی موت خود دیکھتے ہو کہ انسان کو خدا بنادیا اور خدا تعالیٰ کو بھلا دیا اور کفر کی موت یہ کہ سچے رسول سے منکر ہوگئے اب اس تمام تقریر سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح کی نسبت یہ گمان کرنا کہ انہوں نے روحانی مردوں کے زندہ کرنے میں قیامت کا نمونہ دکھلایا سراسر خیال محال اور دعویٰ بے دلیل ہے بلکہ یہ قیامت کا نمونہ ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے کوئی کسی شیرینی کو آنکھ پر رکھ کر اس کا میٹھا یا کڑوا ہونا امتحان کرے یا آنکھوں کو بند کر کے کانوں سے دیکھنے کا کام لینا چاہے مگر یاد رہے اور صلابت اس مرتبہ میں پیدا نہیں ہوتی مگر مضغہ کی طرح کسی قدر قضا و قدر کی مضغ کے لائق ہوجاتا ہے یعنی کسی قدر اس لائق ہوجاتا ہے کہ قضا و قدر کا دانت اس پر چلے اور وہ اس کے نیچے ٹھہر سکے کیونکہ علقہ جو ایک سیال رطوبت کے قریب قریب ہے وہ تو اس لائق ہی نہیں کہ دانتوں کے نیچے پیسا جاوے اور ٹھہرا رہے لیکن مضغہ مضغ کے لائق ہے اسی لئے اس کا نام مضغہ ہے سو مضغہ ہونے کی وہ حالت ہے کہ جب کچھ چاشنی محبت الٰہی کی دل میں پڑ جاتی ہے اور تجلّی جلالی توجہ فرماتی ہے کہ بلاؤں کے ساتھ اس کی آزمائش کرے تب وہ مضغہ کی طرح قضا و قدر کے دانتوں میں پیسا جاتا ہے اور خوب قیمہ کیا جاتا ہے غرض تیسرا درجہ سالک کے وجود کا مضغہ ہونے کی حالت ہے اور پھر چوتھا درجہ