روحاؔ نی حیات کے بخشنے میں اس ذات کامل الصفات نے دکھلایا جس کا نام نامی محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم سارا قرآن اول سے آخر تک یہ شہادت دے رہا ہے کہ یہ رسول اس وقت بھیجا گیا تھا کہ جب تمام قومیں دنیا کی روح میں مرچکی تھیں اور فساد روحانی نے برّوبحر کو ہلاک کردیا تھا تب اس رسول نے آکر نئے سرے سے دنیا کو زندہ کیا اور زمین پر توحید کا دریا جاری کردیا اگر کوئی منصف فکر کرے کہ جزیرہ عرب کے لوگ اول کیا تھے اور پھر اس رسول کی پیروی کے بعد کیا ہوگئے اور کیسی ان کی وحشیانہ حالت اعلیٰ درجہ کی انسانیت تک پہنچ گئی اور کس صدق و صفا سے انہوں نے اپنے ایمان کو اپنے خونوں کے بہانے سے اور اپنی جانوں کے فدا کرنے اور اپنے عزیزوں کو چھوڑنے اور اپنے مالوں اور عزتوں اور آراموں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں کہ یہ بات بھی نہیں کہ ایمانی مرتبہ میں خدا تعالیٰ نے ان تمام امور کے تسلیم کرانے میں اپنے بندوں کو صرف تکلیف مالا یطاق دینا چاہاہے بلکہ ان کی تسلیم کے لئے براہین وہ ہے کہ جب انسان استقامت اور بلاؤں کی برداشت کی برکت سے آزمائے جانے کے بعد نقوش انسانی کا پورے طور پر انعام پاتا ہے یعنی روحانی طور پر اس کے لئے ایک صورت انسانی عطا ہوتی ہے اور انسان کی طرح اس کو دو آنکھیں دو کان اور دل اور دماغ اور تمام ضروری قویٰ اور اعضا عطا کئے جاتے ہیں اور بمقتضائے آیت 3۱؂ سختی اور نرمی مواضع مناسبہ میں ظاہر ہوجاتی ہے یعنی ہر یک خلق اس کا اپنے اپنے محل پر صادر ہوتا ہے اور آداب طریقت تمام محفوظ ہوتے ہیں اور ہریک کام اور کلام حفظ حدود کے لحاظ سے بجالاتا ہے یعنی نرمی کی جگہ پر نرمی اور سختی کی جگہ پر سختی اور تواضع کی جگہ پر تواضع اور ترفع کی جگہ پر ترفع ایسا ہی تمام قویٰ