بعضؔ کو ان میں سے سست اعتقاد کے لفظ سے پکارا ہے اور بعض کو شیطان کے لفظ سے یاد کیا ہے اور اگر ہم حواریوں کو الگ رکھ کر ان عیسائیوں کے حالات پر نظر ڈالیں جو بعد ان کے وقتًافوقتًا آج تک پیدا ہوتے رہے تو ہمیں ایک بھی ان میں سے نظر نہیں آتا جو دنیااور نفس کی قبر سے نکل کر نئی زندگی کی قیامت میں برانگیختہ ہوگیا ہو بلکہ وہ تمام نفسانیت کی تنگ و تاریک قبروں میں مرے ہوئے اور سڑے ہوئے نظر آرہے ہیں اور روحانی حیات کی ہو ا اُن کو چھو بھی نہیں گئی وہ جانتے بھی نہیں کہ خدا کون ہے اور اس کی عظمت اور قدرت کیا شے ہے اور کیونکر وہ پاک دلوں کو پاک زندگی بخشتا اور ان سے قریب ہوجاتا ہے وہ تو ایک عاجز انسان کو خدا قرار دے کر اور بے وجہ اس پر دوسروں کے گناہوں کا بوجھ لاد کر خوش ہورہے ہیں جاننا چاہیئے کہ موت چار قسم کی ہوتی ذرہ رغبت نہیں کرتا اور ان راہوں سے حق الیقین تک پہنچنا چاہتا ہے جو خدا تعالیٰ کے قدیم قانون قدرت نے وہ راہیں ان امور کے دریافت کے لئے مقرر نہیں کیں اس کی اس استعداد کے ساتھ ایک قطرہ رحمت الٰہی مل جاتا ہے اسی طرز کے موافق کہ جب عورت کے نطفہ میں مرد کا نطفہ پڑتا ہے تو تب انسان کی باطنی حالت نطفہ کی صورت سے علقہ کی صورت میں آجاتی ہے اور کچھ رشتہ باری تعالیٰ سے پیدا ہونے لگتا ہے جیسا کہ علقہ کے لفظ سے تعلق کا لفظ مفہوم ہوتا ہے اور پھر وہ علقہ اعمال صالحہ کے خون کی مدد سے مضغہ بنتا ہے اسی طرز سے کہ جیسے خون حیض کی مدد سے علقہ مضغہ بن جاتا ہے اور مضغہ کی طرح ابھی اس کے اعضا ناتمام ہوتے ہیں جیسا کہ مضغہ میں ہڈی والے عضو ابھی ناپدید ہوتے ہیں ایسا ہی اس میں بھی شدت لِلّٰہ اور ثبات لِلّٰہ اور استقامت لِلّٰہ کے عضو ابھی کما حقہ پیدا نہیں ہوتے گو تواضع اور نرمی موجود ہوجاتی ہے۔ اور اگرچہ پوری شدت