آتےؔ گئے اس کا بداثر پڑا ہوگا کیونکہ ہریک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر حضرت مسیح سے درحقیقت معجزات ظہور میں آتے اور اعلیٰ درجہ کے عجائب کام ان سے ظاہر ہوتے تو ان کے حواریوں کا جو ایمان لاچکے تھے ایسا بدانجام ہرگز نہ ہو تاکہ بعض چند درم رشوت لے کر ان کو گرفتار کراتے اور بعض ان کو گرفتار ہوتے دیکھ کر بھاگ جاتے اور بعض ان کے روبرو ان پر *** بھیجتے جن کے دلوں میں ایمان رچ جاتا ہے اور جن کو نئی زندگی حاصل ہوتی ہے کیا ان کے یہی آثار ہوا کرتے ہیں اور کیا وہ اپنے مخدوم اپنے آقا اپنے رہبر سے ایسی ہی وفاداریاں کیا کرتے ہیں اور حضرت مسیح کے الفاظ بھی جو انجیلوں میں درج ہیں دلالت کر رہے ہیں کہ آپ کے حواری اور آپ کے دن رات کے دوست اور رفیق اور ہم پیالہ اور ہم نوالہ بکلّی روحانیت سے خالی تھے اسی وجہ سے حضرت مسیح علیہ السلام نے طور پر ثابت ہوسکتی ہے اسی طور پر ان تمام عقائد کا ثبوت مل جاتا ہے بلکہ ایسا اعلیٰ ثبوت کہ کوئی نمونہ اس کا دنیا میں پایا نہیں جاتا مگر کمبخت انسان ان راہوں کی طرف دیکھ لو یہی چھ مراتب اس میں متحقق ہوں گے یعنی بنظر تحقیق یہ ثابت ہوگا کہ ہریک جسمانی مخلوق کے وجود کی تکمیل چھ مرتبوں کے طے کرنے کے بعد ہوتی ہے اور انسان پر کچھ موقوف نہیں زمین پر جو ہزارہا حیوانات ہیں ان کے وجود کی تکمیل بھی انہیں مراتب ستہّ پر موقوف پاؤگے۔ پھر ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ مراتب ستّہ تکوین کا صرف جسمانی مخلوق میں ہی محدود نہیں بلکہ روحانی امور میں بھی اس کا وجود پایا جاتا ہے مثلاً تھوڑے سے غور سے معلوم ہوگا کہ انسان کی روحانی پیدائش کے مراتب بھی چھ۶ ہی ہیں پہلے وہ نطفہ کی صورت پر صرف حق کے قبول کرنے کی ایک استعداد بعیدہ اپنے اندر رکھتا ہے اور پھر جب