ہیں ؔ کہ مسیح کی تعلیم خود ان کے شاگردوں کی پست خیالی اور کم فہمی اور دنیا طلبی کو دور نہیں کرسکی اور مسیح کی گرفتاری کے وقت جو کچھ انہوں نے اپنی بزدلی اور بداعتقادی اور بے وفائی دکھلائی بلکہ بعض کی زبان پر بھی جو کچھ اس آخری وقت میں لعن طعن کے الفاظ حضرت مسیح کی نسبت جاری ہوئے یہ ایک ایسی بات ہے کہ بڑے بڑے اور اعلیٰ درجہ کے فاضل مسیحیوں نے حواریوں کی ان بے جا حرکات کو مسیحیوں کے لئے سخت قابل شرم قرار دیا ہے پھر یہ خیال کرنا کہ حضرت مسیح روحانی قیامت تھے اور ان میں داخل ہو کر روحانی مردے زندہ ہوگئے کس قدر دور از صداقت ہے جو کچھ حضرت مسیح کے پیروؤں نے آپ کی زندگی کے وقت اپنی استقامت اور ایمانداری کا نمونہ دکھلایا وہ تو ایک ایسا بد نمونہ ہے کہ ضرور ان مسیحیوں پر جو بعد میں اب تک دنیا میں
کیونکہ ہندسی ثبوت اکثر دوائر موہومہ پر مبنی ہیں مگر دینی امور عرفانی مرتبہ میں وہم اور شک سے منزّہ ہوتے ہیں اور دنیا میں جس قدر ایک چیز زیادہ سے زیادہ بدیہی
کہ اس کا قانون قدرت ہی ابتدا سے یہی ہے کہ وہ ہر یک مخلوق کو بتدریج پیدا کرتا ہے سو حال کے افعال الٰہی ہمیں بتلارہے ہیں کہ گزشتہ اور ابتدائی زمانہ میں بھی یہی تدریج ملحوظ تھی جو اب ہے ہم سخت نادان ہوں گے اگر ہم حال کے آئینہ میں گزشتہ کی صورت نہ دیکھ لیں اور حال کی طرز خالقیت پر نظر ڈال کر صرف اتنا ہی ثابت نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ اپنی پیدائش کے سلسلہ کو تدریج سے کمال وجود تک پہنچاتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہریک مخلوق کی پیدائش میں چھ ہی مرتبے رکھے ہیں اور حکمت الٰہی نے ہریک مخلوق کی پیدائش میں یہی تقاضا کیا کہ اس کے پیدا ہونے کے چھ مرتبے ہوں جو چھ وقتوں میں انجام پذیر ہوں کسی مخلوق پر نظر ڈال کر