ہوتاؔ ۔ لیکن خدا وند مسیح نے جیسا دعویٰ اپنے حق میں کیا ویسا ہی اس کو ثابت بھی کر دکھلایا فقط۔
ایڈیٹر صاحب کا یہ مقولہ جس قدر راستی اور صداقت سے دور ہے کسی حقیقت شناس پر مخفی نہیں رہ سکتا واقعی امر یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام ایسا دعویٰ کرتے کہ زندگی اور قیامت میں ہوں تو چونکہ وہ سچے نبی تھے اس لئے ضرور تھا کہ اس دعویٰ کی سچائی ظاہر ہوجاتی اور حضرت مسیح کی زندگی میں اور بعد ان کے روحانی حیات دنیا میں بذریعہ ان کے پھیل جاتی لیکن جس قدر حضرت مسیح الٰہی صداقت اور ربّانی توحید کے پھیلانے سے ناکام رہے شاید اس کی نظیر کسی دوسرے نبی کے واقعات میں بہت ہی کم ملے گی ہمارے اس زمانہ میں یہ شہادت بڑے بڑے پادری صاحبان بھی دے چکے
داخل کردیا ہے وہ کیونکر برخلاف ارادہ الٰہی اس درجہ کی ہدایت تک پہنچ جائے ہاں جب انسان ایمان کے درجہ سے عرفان کے مرتبہ پر ترقی کرتا ہے تو بلاشبہ یہ تمام امور ہدایت کے رنگ میں نظر آتے ہیں بلکہ ہندسی ثبوتوں سے بڑھ کر ان کا ثبوت ہوتا ہے
خدا تعالیٰ کے تمام پیدائشی کام اس دنیا میں تدریجی ہیں تو پھر اگر منکر کی نظر میں یہ دلیل کافی نہیں تو اس پر واجب ہوگا کہ وہ بھی تو اپنے اس دعو ٰے پر کوئی دلیل پیش کرے کہ خدا تعالیٰ نے یہ عالم جسمانی صرف ایک دم میں پیدا کردیا تھا تدریجی طور پر پیدا نہیں کیا تھا۔ ہریک شخص جانتا ہے کہ وہی خدا اب بھی ہے جو پہلے تھا اور وہی خالقیت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے جو پہلے جاری تھا۔ اور صاف بدیہی طور پر نظر آرہا ہے کہ خدا تعالیٰ ہر یک مخلوق کو تدریجی طور پر اپنے کمال وجود تک پہنچاتا ہے یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ پہلے وہ قوی تھا اور جلد کام کر لیتا تھا اور اب ضعیف ہے اور دیر سے کرتا ہے بلکہ یہی کہیں گے