33۔۱؂ یعنی ان کو روح القدس کے ساتھ مدد دی اور روح القدس کی مدد یہ ہے کہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اور روحانی موت سے نجات بخشتا ہے اور پاکیزہ قوتیں اور پاکیزہ حواس اور پاک علم عطا فرماتا ہے اور علوم یقینیہ اور براہین قطعیہّ سے خدا تعالیٰ کے مقام قرب تک پہنچا دیتا ہے۔ کیونکہ اس کے مقرب وہی ہیں جو یقینی طور پر جانتے ہیں کہ وہ ہے اور یقینی طور پر جانتے ہیں کہ اس کی قدرتیں اور اس کی رحمتیں اور اس کی عقوبتیں اور اس کی عدالتیں سب سچ ہیں اور وہ جمیع فیوض کا مبدء اور تمام نظام عالم کا سرچشمہ اور تمام سلسلہ مو ّ ثرات اور متأ ثّرات کا علّت العلل ہے مگر متصرف بالارادہ جس کے ہاتھ میں کل 33ہے اور یہ علوم جو مدار نجات ہیں یقینی اور قطعی طور پر بجز اس حیات کے حاصل نہیں ہوسکتے جو بتوسط روح القدس انسان کو میں ہزارہا بلکہ کروڑہا چیزوں کو یقینی اور قطعی طور پر مانتے ہیں اور ان کے وجود میں ذرہ شک نہیں کرتے تو کیا ان کے ماننے سے کوئی ثواب ہمیں مل سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے نشانوں کو بھی ایسے بدیہی طور سے اپنے نبیوں کے ذریعہ سے رہتا ہے۔ اور اس درجہ پر انسانی شکل کا کھلا کھلا خاکہ طیار ہوجاتا ہے جس کے دیکھنے کے لئے کسی خورد بین کی ضرورت نہیں اس خاکہ میں انسان کا اصل وجود جو کچھ بننا چاہئے تھا بن چکتا ہے لیکن وہ ابھی اس لحم سے خالی ہوتا ہے جو انسان کے لئے بطور ایک موٹے اور شاندار اور چمکیلے لباس کے لئے۲؂ ہے۔ جس سے انسان کے تمام خط و خال ظاہر ہوتے ہیں اور بدن پر تازگی آتی ہے اور خوبصورتی نمایاں ہوجاتی ہے اور تناسب اعضا پیداہوتا ہے پھر بعد اس کے پانچواں درجہ وہ ہے کہ جب اس خاکہ پر لحم یعنی موٹا گوشت برعایت مواضع مناسبہ چڑھایا جاتا ہے یہ وہی گوشت ہے کہ جب انسان تپ ۱؂ المجادلۃ:۲۳ ۲؂ ’’ لئے ‘‘سہو کاتب ہے۔شمس ؔ