ملتی ؔ ہے اور قرآن کریم کا بڑے زور شور سے یہ دعویٰ ہے کہ وہ حیات روحانی صرف متابعت اس رسول کریم سے ملتی ہے اور تمام وہ لوگ جو اس نبی کریم کی متابعت سے سرکش ہیں وہ مردے ہیں جن میں اس حیات کی روح نہیں ہے اور حیات روحانی سے مراد انسان کے وہ علمی اور عملی قویٰ ہیں جو روح القدس کی تائید سے زندہ ہوجاتے ہیں اور قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ جن احکام پر اللہ جلّ شانہ‘ انسان کو قائم کرنا چاہتا ہے وہ چھ سو ہیں ایسا ہی اس کے مقابل پر جبرائیل علیہ السلام کے پر بھی چھ سو ہیں اور بیضہ بشریت جب تک چھ سو حکم کو سر پر رکھ کر جبرائیل کے پروں کے نیچے نہ آوے اس میں فنا فی اللہ ہونے کا بچہ پیدا نہیں ہوتا اور انسانی حقیقت اپنے اندر چھ سو بیضہ کی استعداد رکھتی ہے۔ پس جس شخص کا چھ سو بیضہ استعداد جبرائیل کے چھ سو پر کے نیچے آگیا وہ انسان کامل اور یہ تولد اس کا ظاہر نہیں کیا جیسے ہمیشہ سے دنیا کے جاہل لوگ تقاضا کررہے ہیں بلکہ جن کی استعدادوں پر پردہ تھا ان پر ابتلا کا پردہ بھی ڈال دیا جیسا کہ یہ ذکر قرآن کریم میں موجود ہے کہ مکہ کے جاہل یہ درخواست کرتے تھے کہ ہم اس شرط پر ایمان لاسکتے ہیں کہ عرب کے تمام مردے زندہ کئے جائیں یا یہ کہ ہمارے روبرو وغیرہ سے بیمار رہتا ہے تو فاقہ اور بیماری کی تکالیف شاقہ سے وہ گوشت تحلیل ہوجاتا ہے اور بسا اوقات انسان ایسی لاغری کی حالت پر پہنچ جاتا ہے جو وہی پانچویں درجہ کا خاکہ یعنی مشت استخوان رہ جاتا ہے جیسے مدقوقوں اورمسلولوں اور اصحاب ذیابیطس میں مرض کے انتہائی درجہ میں یہ صورت ظاہر ہوجاتی ہے۔ اور اگر کسی کی حیات مقدر ہوتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ اس کے بدن پر گوشت چڑھاتا ہے غرض یہ وہی گوشت ہے جس سے خوبصورتی اور تناسب اعضا اور رونق بدن پیدا ہوتی ہے اور کچھ شک نہیں کہ یہ گوشت خاکہ طیار ہونے کے بعد آہستہ آہستہ جنین پر چڑھتا رہتا ہے۔ اور جب جنین