کہؔ جو اُن کو غیر اللہ سے رہائی دے دے گا اور وہ گناہوں سے نجات پا جائیں گے اور اسی دنیا میں ایک پاک زندگی ان کو عطا کی جائے گی اور نفسانی جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے وہ نکالے جائیں گے۔ اسی کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے۔ انا الحا شر الذی یُحْشر النّاس علی قدمی۱؂ یعنی میں وہ ُ مردوں کو اٹھانے والا ہوں جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جاتے ہیں۔ واضح ہو کہ قرآن کریم اس محاورہ سے بھرا پڑا ہے کہ دنیا مرچکی تھی اور خدا تعالیٰ نے اپنے اس نبی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج کر نئے سرے دنیا کو زندہ کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے 33 ۔۲؂ یعنی اس بات کو سن رکھو کہ زمین کو اس کے مرنے کے بعد خدا تعالیٰ زندہ کرتا ہے پھر اسی کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حق میں فرماتا ہے۔ وفاداروں اور اخبار ظنّیہ کے ماننے والوں کی طرف رجوع کرتا ہے تو پھر علوم بدیہہ ضروریہ کا ماننا کس راست بازی اور صدق اور صفا کو ثابت کرسکتا ہے ہم صریح دیکھتے ہیں کہ جیسے ہم اس بات کے قائل ہیں کہ چار کا نصف دو ہیں ایسا ہی ایک اول درجہ کا بدمعاش بھی اسی بات کا قائل ہوتا ہے ہم دنیا نظر سے کچھ خطوط انسان بننے کے اس میں دکھائی دیتے ہیں چنانچہ اکثر بچے اس حالت میں بھی ساقط ہوجاتے ہیں جن عورتوں کو کبھی یہ اتفاق پیش آیا ہے یا وہ دایہ کا کام کرتی ہیں وہ اس حال سے خوب واقف ہیں پھر چوتھا درجہ وہ ہے جب مضغہ سے ہڈیاں بنائی جاتی ہیں جیسا کہ آیت 3۳؂ بیان فرمارہی ہے۔ مگر المضغہ پر جو الف لام ہے وہ تخصیص کے لئے ہے جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ تمام مضغہ ہڈی نہیں بن جاتا بلکہ جہاں جہاں ہڈیاں درکار ہیں باذنہٖ تعالیٰ وہی نرم گوشت کسی قدر صلب ہو کر ہڈی کی صورت بن جاتا ہے اور کسی قدر بدستور نرم گوشت ۱؂ بخاری کتاب المناقب۔ ۲؂ الحدید:۱۸ ۳؂ المومنون