خوشخبرؔ ی ہے گویا یہ آیت کہ قل یا عبادی دوسرے لفظوں میں اس طرح پر ہے کہ قل یا متّبعییعنی اے میری پیروی کرنے والو جو بکثرت گناہوں میں مبتلا ہورہے ہو رحمت الٰہی سے نومید مت ہو کہ اللہ جلّ شانہٗ بہ برکت میری پیروی کے تمام گناہ بخش دے گا۔ اور اگر عباد سے صرف اللہ تعالیٰ کے بندے ہی مراد لئے جائیں تو معنے خراب ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ ہرگز درست نہیں کہ خدا تعالیٰ بغیر تحقّق شرط ایمان اور بغیر تحقّق شرط پیروی تمام مشرکوں اور کافروں کو یونہی بخش دیوے ایسے معنے تو نصوص بیّنہ قرآن سے صریح مخالف ہیں۔ اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ ماحصل اس آیت کا یہ ہے کہ جو لوگ دل و جان سے تیرے یارسول اللہ غلام بن جائیں گے ان کو وہ نور ایمان اور محبت اور عشق بخشا جائے گا بعض حصے علوم طبعی اور طبابت اور ہیئت صاف کئے گئے ہیں تو پھر ایسے علوم بدیہہ ضروریہ کو نجات انسانی سے تعلق ہی کیا تھا جب کہ نجات کی یہ حقیقت ہے کہ وہ اللہ جلّ شانہٗ کا محبت اور پیار سے بھرا ہوا ایک فضل ہے جو راست بازوں اور صادقوں اور سچے ایمانداروں اور کامل کھل گئی اور فیضان سماوی زمین پر جاری ہوگئے اب پھر ہم اپنے پہلے کلام کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ نطفتینمرد اور عورت کے جو آپس میں مل جاتے ہیں وہ اول مرتبہ تکوین کا ہے۔ اور پھر ان میں ایک جوش آکر وہ مجموعہ نطفتین جو قوت عاقدہ اور منعقدہ اپنے اندر رکھتا ہے سرخی کی طرف مائل ہوجاتا ہے گویا وہ منی جو پہلے خون سے بنی تھی پھر اپنے اصلی رنگ کی طرف جو خونی ہے عود کر آتی ہے یہ دوسرا درجہ ہے پھر وہ خون جما ہوا جس کا نام علقہ ہے ایک گوشت کا مضغہ ہوجاتا ہے جو انسانی شکل کا کچھ خاکہ نہایت دقیق طور پر اپنے اندر رکھتا ہے یہ تیسرا درجہ ہے اور اس درجہ پر اگر بچہ ساقط ہوجائے تو اس کے دیکھنے سے غور کی