نبیؔ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاں تک بغض رکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک یہ نام کہ غلام نبی۔ غلام رسول۔ غلام مصطفی۔ غلام احمد۔ غلام محمد شرک میں داخل ہیں اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ مدار نجات یہی نام ہیں۔ اور چونکہ عبد کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ ہر ایک آزادگی اور خودروی سے باہر آجائے اور پورا متبع اپنے مولیٰ کا ہو۔ اس لئے حق کے طالبوں کو یہ رغبت دی گئی کہ اگر نجات چاہتے ہیں تو یہ مفہوم اپنے اندر پیدا کریں اور درحقیقت یہ آیت اور یہ دوسری آیت 33۔ ۱؂ از رو مفہوم کے ایک ہی ہیں۔ کیونکہ کمال اتباع اس محویت اور اطاعت تامہ کو مستلزم ہے جو عبد کے مفہوم میں پائی جاتی ہے۔ یہی سر ہے کہ جیسے پہلی آیت میں مغفرت کا وعدہ بلکہ محبوب الٰہی بننے کی اس نے ان تمام چیزوں کو دیکھ لیا ہے جو پہلے اس سے پردہ غیب میں تھیں اس لئے وہ موقعہ ثواب کا ہاتھ سے جاتا رہا جو صرف اسی شخص کو مل سکتا ہے جو ان بدیہی ثبوتوں سے بے خبر ہو اور محض قرائن دقیقہ سے استنباط کر کے بات کی اصلیت تک پہنچ گیا ہو سو افسوس کہ وہ لوگ جو فلسفہ پر مرے جاتے ہیں ان کی عقلوں پر یہی پردہ پڑا ہوا ہے کہ وہ اس بات کو نہیں سوچتے کہ اگر علم ذات باری اور علم وجود ملائک اور علم حشر اجسام اورعلم جنت وجہنم اور علم نبوت اور رسالت ایسے مانجے جاتے اور صاف کئے جاتے اور بدیہی طور پر دکھلائے جاتے کہ جیسے علوم ہندسہ و حساب اور زمین کو نہیں دیکھا کہ گٹھڑی کی طرح آپس میں بندھے ہوئے تھے اور ہم نے ان کو کھول دیا۔ سو کافروں نے تو آسمان اور زمین بنتا نہیں دیکھا اور نہ ان کی گٹھڑی دیکھی لیکن اس جگہ روحانی آسمان اور روحانی زمین کی طرف اشارہ ہے جس کی گٹھڑی کفار عرب کے روبرو ۱؂ اٰل عمران: