پکڑؔ کر تمام صحن سینہ کو اس نور سے منور کردیتی ہے جس کا نام اسلام ہے اور اس معرفت تامہ کے درجہ پر پہنچ کر اسلام صرف لفظی اسلام نہیں رہتا بلکہ وہ تمام حقیقت اس کی جو ہم بیان کرچکے ہیں حاصل ہوجاتی ہے اور انسانی روح نہایت انکسار سے حضرت احدیت میں اپنا سر رکھ دیتی ہے تب دونوں طرف سے یہ آواز آتی ہے کہ جو میرا سو تیرا ہے۔ یعنی بندہ کی روح بھی بولتی ہے اور اقرار کرتی ہے کہ یا الٰہی جو میرا ہے سو تیرا ہے۔ اور خدا تعالیٰ بھی بولتا ہے اور بشارت دیتا ہے کہ اے میرے بندے جو کچھ زمین و آسمان وغیرہ میرے ساتھ ہے وہ سب تیرے ساتھ ہے۔ اسی مرتبہ کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے۔ 3 333۔۱؂ اگر لوگ خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے اور اس کے فرشتوں کا مشاہدہ کر لیتے تو پھر یہ معلومات بھی ان تمام معلومات کی مدّ میں داخل ہوجاتے جو انسان بذریعہ حواس یا تجارب حاصل کرتا ہے اس صورت میں ان امور کا ماننا موجب نجات نہ ٹھہر سکتا جیسا کہ اور دوسرے صدہا امور معلومہ کا ماننا موجب نجات نہیں ہے مثلاً ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ درحقیقت سورج اور چاند موجود ہیں اور زمین پر صدہا قسم کے جانور صدہا قسم کی بوٹیاں صدہا قسم کی کانیں اور دریا اور پہاڑ موجود ہیں مگر کیا اس ماننے سے ہمیں کوئی ثواب حاصل ہوگا یا ہم ان چیزوں کا وجود قبول کرنے سے خدا تعالیٰ نطفہ سے کسی بچہ کو رحم میں بنانے کے لئے ارادہ فرماتا ہے تو پہلے مرد اور عورت کا نطفہ رحم میں ٹھہرتا ہے اور صرف چند روز تک ان دونوں منیوں کے امتزاج سے کچھ تغیر طاری ہوکر جمے ہوئے خون کی طرح ایک چیز ہوجاتی ہے جس پر ایک نرم سی جھلّی ہوتی ہے یہ جھلّی جیسے جیسے