ا لجز ؔ و ۲۴ سورۃ الزمر یعنی کہہ اے میرے غلامو جنہوں نے اپنے نفسوں پر زیادتی کی ہے کہ تم رحمت الٰہی سے ناامید مت ہو خدا تعالیٰ سارے گناہ بخش دے گا۔ اب اس آیت میں بجائے قل یا عباد اللّٰہ کے جس کے یہ معنے ہیں کہ کہہ اے خدا تعالیٰ کے بندو یہ فرمایا کہ قل یا عبادی یعنی کہہ اے میرے غلامو۔ اس طرز کے اختیار کرنے میں بھید یہی ہے کہ یہ آیت اس لئے نازل ہوئی ہے کہ تاخدا تعالیٰ بے انتہا رحمتوں کی بشارت دیوے اور جو لوگ کثرت گناہوں سے دل شکستہ ہیں ان کو تسکین بخشے سو اللہ جلّ شانہٗ نے اس آیت میں چاہا کہ اپنی رحمتوں کا ایک نمونہ پیش کرے اور بندہ کو دکھلاوے کہ میں کہاں تک اپنے وفادار بندوں کو انعامات خاصہ سے مشرف کرتا ہوں سو اس نے قل یا عبادی کے
کے مقرب ہوجائیں گے ہرگز نہیں پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے فرشتوں کو مانتا ہے بہشت اور دوزخ کے وجود پر ایمان لاتا ہے اور قیامت میں میزان عمل کو قبول کرتا ہے قیامت کی ُ پل صراط پر صدق دل سے یقین رکھتا ہے اور اس حقیقت کو مانتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی کتابیں ہیں جو دنیا میں نازل ہوئی ہیں اور اس کے رسول بھی ہیں جو دنیا میں آئے ہیں اور اس کی طرف سے حشر اجسام بھی ہے جو ایک دن ہوگا اور خدا بھی موجود ہے جو درحقیقت واحد لاشریک ہے تو وہ شخص عند اللہ قابل نجات ٹھہر جاتا ہے۔ پیارو!! یقیناً سمجھو کہ اس کی یہی وجہ ہے کہ یہ شخص خدا تعالیٰ پر جو ہنوز در پردہ غیب ہے ایمان لاتا ہے اور اس کی
بچہ بڑھتا ہے بڑھتی جاتی ہے یاں تک کہ خاکی رنگ کی ایک تھیلی سی ہوجاتی ہے جو گٹھڑی کی طرح نظر آتی ہے اور اپنی تکمیل خلقت کے دنوں تک بچہ اسی میں ہوتا ہے قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے اور حال کی تحقیقاتیں بھی اس کی مصدّق ہیں کہ عالم کبیر