ہیںؔ لیکن علم عظمت و وحدانیت ذات اور معرفت شیون و صفات جلالی و جمالی حضرت باری عزّ اسمہ وسیلۃ الوسائل اور سب کا موقوف علیہ ہے کیونکہ جو شخص غافل دل اور معرفت الٰہی سے بکلّی بے نصیب ہے وہ کب توفیق پاسکتا ہے کہ صوم اور صلٰوۃ بجالاوے یا دعا کرے یا اور خیرات کی طرف مشغول ہو۔ ان سب اعمال صالح کا محرک تو معرفت ہی ہے اور یہ تمام دوسرے وسائل دراصل اسی کے پیدا کردہ اور اس کے بنین و بنات ہیں اور ابتدا اس معرفت کی پرتوہ اسم رحمانیت سے ہے نہ کسی عمل سے نہ کسی دعا سے بلکہ بلاعلت فیضان سے صرف ایک موہبت ہے یھدی من یشاء ویضل من یشاء مگر پھر یہ معرفت اعمال صالحہ اور حسن ایمان کے شمول سے زیادہ ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ آخر الہام اور کلام الٰہی کے رنگ میں نزول
اس کی تاثیرات پہنچاتے ہیں اور مادہ موذیہ کا اخراج باذنہ ٖ تعالیٰ شروع ہوجاتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے نہایت حکمت اور قدرت کاملہ سے سلسلہ ظاہری علوم و فنون کو بھی ضائع ہونے نہیں دیا اور اپنی خدائی کے تصرفات اور دائمی قبضہ کو بھی معطل نہیں رکھا اور اگر خدا تعالیٰ کا اس قدر دقیق در دقیق تصرف اپنی مخلوق کے عوارض اور اس کی بقا اور فنا پر نہ ہوتا تو وہ ہرگز خدا نہ ٹھہر سکتا اور نہ توحید درست ہوسکتی ہاں یہ بات درست ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس عالم میں نہیں چاہا کہ یہ تمام اسرار عالم نظروں میں بدیہی ٹھہر جاویں کیونکہ اگر یہ بدیہی ہوتے تو پھر ان پر ایمان لانے کا کچھ بھی ثواب نہ ہوتا مثلاً
وقت خرچ کر کے اور ان بچوں کو دیکھ کر جو تام خلقت یا ناتمام خلقت کی حالت میں پیدا ہوتے ہیں یا سقوط حمل کے طور پر گرتے ہیں۔ حقیقت واقعیہ تک پہنچ سکتا ہے اور جیسا کہ ہم اپنے ذاتی مشاہدہ سے جانتے ہیں بلاشبہ یہ بات صحیح ہے کہ جب خدا تعالیٰ انسانی