اس ؔ لئے ان کا اسلام بھی سب سے اعلیٰ ہے اور وہ اول المسلمین ہیں۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس زیادت علم کی طرف اس دوسری آیت میں بھی اشارہ ہے جیسا کہ اللہجلّ شانہٗ فرماتا ہے۔33 3۔۱ الجز نمبر ۵ یعنی خدا تعالیٰ نے تجھ کو وہ علوم عطا کئے جو تو خودبخود نہیں جان سکتا تھا اور فضل الٰہی سے فیضان الٰہی سب سے زیادہ تیرے پر ہوا یعنی تو معارف الٰہیہ اور اسرار اور علوم ر ّ بانی میں سب سے بڑھ گیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی معرفت کے عطر کے ساتھ سب سے زیادہ تجھے معطر کیا غرض علم اور معرفت کو خدا تعالیٰ نے حقیقت اسلامیہ کے حصول کا ذریعہ ٹھہرایا ہے اور اگرچہ حصول حقیقت اسلام کے وسائل اور بھی ہیں جیسے صوم و صلوٰۃ اور دعا اور تمام احکام الٰہی جو چھ سو سے بھی کچھ زیادہ
بلکہ اس طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور اسی قاعدہ کے موافق ہر یک شخص اپنے اندازہ استعداد پر فرشتوں کے القا سے فیض یاب ہوتا ہے اور جس فن یا علم کی طرف کسی کا روئے خیال ہے اسی میں فرشتہ سے مدد پاتا ہے مثلاً جب اللہ جلّ شانہٗ کا ارادہ ہوتا ہے کہ کسی دوا سے کسی کو دست آویں تو طبیب کے دل میں فرشتہ ڈال دیتا ہے کہ فلاں مسہل کی دوا اسکو کھلا دو تب وہ تربد یا خیار شیر۲ یا شیرخشت یا سقمونیا یاسنا یا کسٹرائل یا کوئی اور چیز جیسے دل میں ڈال گیا ہو اس بیمار کو بتلا دیتا ہے اور پھر فرشتوں کی تائید سے اس دوا کو طبیعت قبول کرلیتی ہے قے نہیں آتی تب فرشتے اس دوا پر اپنا اثر ڈال کر بدن میں
کی رو سے یہ طرز بچہ کے بننے کی جو رحم عورت میں بنتا ہے ثابت نہیں ہوتی بلکہ برخلاف اس کے ثابت ہوتا ہے لیکن یہ اعتراض سخت درجہ کی کم فہمی یا صریح تعصب پر مبنی ہے اس بات کے تجربہ کے لئے کسی ڈاکٹر یا طبیب کی حاجت نہیں خود ہریک انسان اس آزمائش کے لئے
۱ النسآء:۱۱۴ ۲ سہو کاتب ہے ۔ صحیح ’’ شنبر ‘‘ ہے۔ شمس ؔ