3۔۱ یعنی جس کو خدا تعالیٰ چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دی گئی۔ حکمت سے مراد علم عظمت ذات و صفات باری ہے۔ اور خیر کثیر سے مراد اسلام ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰجلّ شانہ‘ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ 3۔۲ پھر ایک دوسری آیت میں فرماتا ہے۔
3۔۳ یعنی اے میرے رب تو مجھے اپنی عظمت اور معرفت شیون اور صفات کا علم کامل بخش اور پھر دوسری جگہ فرمایا 33۔۴ ان دونوں آیتوں کے ملانے سے معلوم ہوا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو اول المسلمین ٹھہرے تو اس کا یہی باعث ہوا کہ اوروں کی نسبت علوم معرفت الٰہی میں اعلم ہیں یعنی علم ان کا معارف الٰہیہ کے بارے میں سب سے بڑھ کر ہے۔
پانی کا کام لے سکتے ہیں بلکہ بادل کو اپنی تحریکات جاذبہ سے محل مقصود پر پہنچا دیتے ہیں اور مدبّرات امر َ بن کر جس کمّ اورَ کیف اور حدّ اور اندازہ تک ارادہ کیا گیا ہے برسادیتے ہیں بادل میں وہ تمام قوتیں موجود ہوتی ہیں جو ایک بے جان اور بے ارادہ اور بے شعور چیز میں باعتبار اس کے جمادی حالت اور عنصری خاصیت کے ہوسکتے ہیں اور فرشتوں کی منصبی خدمت دراصل تقسیم اور تدبیر ہوتی ہے اسی لئے وہ مقسّمات اور مد ّ برات کہلاتے ہیں اور القاء اور الہام بھی جو فرشتے کرتے ہیں وہ بھی برعایت فطرت ہی ہوتا ہے مثلاً وہ الہام جو خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں پر وہ نازل کرتے ہیں دوسروں پر نہیں کرسکتے
گئے ہیں معقولی طور پر متحقق ہوتے ہیں۔ اورنجوم ستہ کا اب بھی علوم حکمیہ میں جنین کی تکمیل کے لئے تعلق مانا جاتا ہے چنانچہ سدیدی میں اس کے متعلق ایک مبسوط بحث لکھی ہے۔ بعض نادان اس جگہ اس آیت کی نسبت یہ اعتراض پیش کرتے ہیں کہ حال کی طبی تحقیقاتوں
۱ البقرۃ:۲۷۰ ۲ یونس:۵۹ ۳ طٰہٰ:۱۱۵ ۴ الانعام: