یہ دؔ ونوں قسم کے وسائل جن پر حقیقت اسلامیہ کا حاصل ہونا موقوف ہے قرآن کریم میں ان دونوں وسیلوں کی طرف اس آیت میں اشارہ فرمایا گیا ہے۔ 33 ۱؂ ۔الجزو نمبر ۲۲ سورۃ الفاطر۔ یعنی اللہ جلّ شانہٗ سے وہ لوگ ڈرتے ہیں جو اس کی عظمت اور قدرت اور احسان اور حسن اور جمال پر علم کامل رکھتے ہیں خشیت اور اسلام درحقیقت اپنے مفہوم کے رو سے ایک ہی چیز ہے کیونکہ کمال خشیت کا مفہوم اسلام کے مفہوم کو مستلزم ہے۔ پس اس آیت کریمہ کے معنوں کا مآل اور ماحصل یہی ہوا کہ اسلام کے حصول کا وسیلہ کاملہ یہی علم عظمت ذات و صفات باری ہے جس کی ہم تفصیل لکھ چکے ہیں اور اسی کی طرف درحقیقت اشارہ اس آیت میں بھی ہے۔333 اور یہ خیال کہ اگر مدبّرات اور مقسّمات امر فرشتے ہیں تو پھر ہماری تدبیریں کیوں پیش جاتی ہیں اور کیوں اکثر امور ہمارے معالجات اور تدبیرات سے ہماری مرضی کے موافق ہوجاتے ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ وہ ہمارے معالجات اور تدبیرات بھی فرشتوں کے دخل اور القاء اور الہام سے خالی نہیں ہیں جس کام کو فرشتے باذنہٖ تعالیٰ کرتے ہیں وہ کام اس شخص یا اس چیز سے لیتے ہیں جس میں فرشتوں کی تحریکات کے اثر کو قبول کرنے کا فطرتی مادہ ہے مثلاً فرشتے جو ایک کھیت یا ایک گاؤں یا ایک ملک میں باذنہٖ تعالیٰ پانی برسانا چاہتے ہیں تو وہ آپ تو پانی نہیں بن سکتے اور نہ آگ سے مخفیہ کی شناخت کے لئے ایک آئینہ کا حکم رکھتا ہے پس جب کہ اس کی پیدائش کے چھ مرتبے ثابت ہوئے تو قطعی طور پر یہ حکم دے سکتے ہیں کہ عالم کبیر کے بھی مراتب تکوین چھ ہی ہیں جو بلحاظ موثرات ستّہ یعنی تجلیات ستّہ جن کے آثار باقیہ نجوم ستہ میں محفوظ رہ ۱؂ فاطر: