دوم ؔ یہ کہ اللہ جلّ شانہ‘ کے حسن و احسان پر اطلاع وافر پیدا کرے کیونکہ کامل درجہ کی محبت یا تو حسن کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے اور یا احسان کے ذریعہ سے اور اللہ جلّ شانہ‘ کا حسن اس کی ذات اور صفات کی خوبیاں ہیں اور خوبیاں یہ ہیں کہ وہ خیر محض ہے اور مبدا ہے جمیع فیضوں کا اور مصدر ہے تمام خیرات کا اور جامع ہے تمام کمالات کا اور مرجع ہے ہریک امر کا اور موجد ہے تمام وجودوں کا اور علّت العلل ہے ہریک مؤثر کا جس کی تاثیر یا عدم تاثیر ہریک وقت اس کے قبضہ میں ہے اور واحد لاشریک ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور اقوال میں اور افعال میں اور اپنے تمام کمالوں میں اور ازلی اور ابدی ہے اپنی جمیع صفات کاملہ کے ساتھ۔ بڑا ہی نیک اور بڑا ہی رحیم باوجود قدرت کاملہ سزا دہی کے ہزاروں برسوں کی خطائیں ایکدم کے رجوع میں بخشنے والا بڑا ہی حلیم اور بردبار اور پردہ پوش کروڑہا نفرت کے کاموں اور مکروہ گناہوں کو مسلّم ہے ان فانی آنکھوں سے نظر آتا ہے۔ ماسوا اس کے یہ بات بھی درست نہیں کہ کسی طرح نظر ہی نہیں آسکتے کیونکہ عارف لوگ اپنے مکاشفات کے ذریعہ سے جو اکثر بیداری میں ہوتے ہیں فرشتوں کو روحانی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں اور ان سے باتیں کرتے ہیں اور کئی علوم ان سے اخذ کرتے ہیں اور مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جو مفتری کذاب کو بغیر ذلیل اور معذّب کرنے کے نہیں چھوڑتا کہ میں اس بیان میں صادق ہوں کہ بارہا عالم کشف میںَ میں نے ملائک کو دیکھا ہے اور ان سے بعض علوم اخذ کئے ہیں اور ان سے گذشتہ یا آنے والی چھ طور کے خلقت کے مدارج طے کرکے اپنے کمال انسانیت کو پہنچتا ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ عالم صغیر اور عالم کبیر میں نہایت شدید تشابہ ہے اور قرآن سے انسان کا عالم صغیر ہونا ثابت ہے اور آیت 33۱؂ اسی کی ۱؂ التّین: