دیکھنےؔ والا اور پھر جلد نہ پکڑنے والا اگر اس کا روحانی جمال تمثل کے طور پر ظاہر ہو تو ہریک دل پروانہ کی طرح اس پر گرے پر اس نے اپنا جمال غیروں سے چھپایا۔ اور انہیں پر ظاہر کیا جو صدق سے اس کو ڈھونڈھتے ہیں اس نے ہریک خوبصورت چیز پر اپنے حسن کا پرتوہ ڈالااگر آفتاب ہے یا ماہتاب یا وہ سیارے جو چمکتے ہوئے نہایت پیارے معلوم ہوتے ہیں یا خوبصورت انسانوں کے منہ جو دلکش اور ملیح دکھائی دیتے ہیں یا وہ تازہ اور تربتر اور خوشنما پھول جو اپنے رنگ اور بو اور آب و تاب سے دلوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیںیہ سب درحقیقت ظلّی طور پر اس حسن لازوال سے ایک ذرہ کے موافق حصہ لیتے ہیں وہ حسن ظن اور وہم اور خیال نہیں بلکہ یقینی اور قطعی اور نہایت روشن ہے جس کے تصور سے تمام نظریں خیرہ ہوتی ہیں اور پاک دل اس کی طرف کھینچے جاتے خبریں معلوم کی ہیں جو مطابق واقعہ تھیں پھر میں کیونکر کہوں کہ فرشتے کسی کو نظر نہیں آسکتے بلاشبہ نظر آسکتے ہیں مگر اور آنکھوں سے۔ اور جیسے یہ لوگ ان باتوں پر ہنستے ہیں عارف ان کی حالتوں پر روتے ہیں۔ اگر صحبت میں رہیں تو کشفی طریقوں سے مطمئن ہوسکتے ہیں لیکن مشکل تو یہی ہے کہ ایسے لوگوں کی کھوپڑی میں ایک قسم کا تکبر ہوتا ہے۔ وہ تکبر انہیں اس قدر بھی اجازت نہیں دیتا کہ انکسار اور تذلّل اختیار کر کے طالب حق بن کر حاضر ہوجائیں۔ اور یہ خیالات کہ ہمیں فرشتوں کے کاموں کا کیوں کچھ احساس نہیں ہوتا۔ طرف اشارہ کررہی ہے کہ تقویم عالم کی متفرق خوبیوں اور حسنوں کا ایک ایک حصہ انسان کو دے کر بوجہ جامعیت جمیع شمائل و شیون عالم اس کو احسن ٹھہرایا گیا ہے پس اب بوجہ تشابہ عالمین اور نیز بوجہ ضرورت تناسب افعال صانع واحد ماننا پڑتا ہے کہ جو