3 ۱ کی تصویر سامنے نظر آجاوے اور نقش راسخ بیدہ ملکوت السمٰوات والارض کا جلی قلم کے ساتھ دل میں لکھا جائے یاں تک کہ اس کی عظمت اور ہیبت اور کبریائی تمام نفسانی جذبات کو اپنی قہری شعاعوں سے مضمحل اور خیرہ کر کے ان کی جگہ لے لے اور ایک دائمی رُعب اپنا دل پر جما دیوے اور اپنے قہری حملہ سے نفسانی سلطنت کے تخت کو خاک مذلّت میں پھینک دیوے اور ٹکڑے ٹکڑے کردیوے اور اپنے خوفناک کرشموں سے غفلت کی دیواروں کو گرا دے اور تکبر کے میناروں کو توڑ دے اور ظلمت بشری کی حکومتیں وجود انسانی کی دارالسلطنت سے بکلّی اٹھا دیوے اور جو جذبات نفس امارہ کی طبیعت انسانی پر حکومت کرتے تھے اور باعزت سمجھے گئے تھے ان کو ذلیل اور خوار اور ہیچ اور بے مقدار کر کے دکھلا دیوے۔
کی نئی روشنی (کہ خاک بر فرق ایں روشنی) نو تعلیم یافتہ لوگوں کو اوہام باطلہ سکھا رہی ہے اور ہم نے تو ڈرتے ڈرتے اس قدر بیان کیا ہے اکثر ان کی نظر تو فقط اسی پر نہیں ٹھہرتی بلکہ حضرت خدا وند تعالیٰ کی نسبت بھی ایسا ہی جرح پیش کر کے صانع حقیقی کے وجود سے فارغ ہو بیٹھے ہیں۔
امالجواب پس واضح ہو کہ یہ خیال کہ فرشتے کیوں نظر نہیں آتے بالکل عبث ہے فرشتے خدا تعالیٰ کے وجود کی طرح نہایت لطیف وجود رکھتے ہیں پس کس طرح ان آنکھوں سے نظر آویں کیا خدا تعالیٰ جس کا وجود ان فلسفیوں کے نزدیک بھی
میں ڈال دی۔ پس کیا ہی مبارک ہے وہ خدا جو اپنی صنعت کاری میں تمام صناعوں سے بلحاظ حسن صنعت و کمال عجائبات خلقت بڑھا ہوا ہے۔
اب دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ بھی اپنا قانون قدرت یہی بیان فرمایا کہ انسان