استعماؔ ل یا مدد سے اس شے کا میسر آجانا ضروری ہواور اس کے عوض اس کی نقیض کا استعمال کرنا موجب ُ بعد و ناکامی ہو۔
بعد اس کے واضح ہو کہ اگرچہ قرآن کریم نے حقیقت اسلامیہ کی تحصیل کے لئے بہت سے وسائل بیان فرمائے ہیں مگر درحقیقت ان سب کا مآل دو قسم پر ہی جا ٹھہرتا ہے۔ اول یہ کہ خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی مالکیت تامہ اور اس کی قدرت تامہ اور اس کی حکومت تامہ اور اس کے علم تام اور اس کے حساب تام اور نیز اس کے واحد لا شریک اور حیّ قیّوم اور حاضر ناظر ذوالاقتدار اور ازلی ابدی ہونے میں اور اس کی تمام قوتوں اور طاقتوں اور جمیع جلال و کمال کے ساتھ یگانہ ہونے میں پورا پورا یقین آجائے یاں تک کہ ہر ایک ذرہ اپنے وجود اور اس تمام عالم کے وجود کا اس کے تصرف اور حکم میں دکھائی دے اور
یا ہڈیاں پیس کر اس کی جڑہوں میں رکھتا ہے۔ ایسا ہی کانوں کی تحقیق میں دخل رکھنے والے اسی طور پر تجویزیں کیا کرتے ہیں اور اکثر یہ سب لوگ کامیاب ہوجاتے ہیں پس اگر یہ سلسلہ ملائک کے ارادہ کے تابع ہے تو ہماری تدبیرات کے مقابل پر کیوں ملائک ٹھہر نہیں سکتے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جن دنوں میں لوگ طبعی کی کامل تحقیقاتوں سے بے بہرہ تھے انہیں دنوں میں ملائک کا وجود تراشا گیا ہے انسان کی عادت ہے کہ معلولات کے لئے کوئی نہ کوئی علّت تلاش کرتا ہے پس جب کہ علّت صحیحہ دریافت نہ ہوسکے تو بے علمی کے زمانہ میں ملائک کا وجود قوت متخیلہ کی تسکین دینے کے لئے تراشا گیا یہ حال
جاتے ہی جگہ دی ۔ ( قرار مکین کا لفظ اس لئے اختیار کیا گیا کہ تا رحم اور تھیلی دونوں پر اطلاق پاسکے) اور پھر ہم نے نطفہ سے علقہ بنایا اور علقہ سے مضغہ اور مضغہ کے بعض حصوں میں سے ہڈیاں اور ہڈیوں پر پوست پیداکیا پھر اس کو ایک اور پیدائش دی یعنی روح اس