کوؔ نصیب نہیں ہوتی ان کے حواس نہایت باریک بین ہوجاتے ہیں اور معارف اور دقائق کے پاک چشمے ان پر کھولے جاتے ہیں اور فیض سائغ رّ بانی ان کے رگ و ریشہ میں خون کی طرح جاری ہوجاتا ہے۔ اب پھر ہم اصل بحث کی طرف جو بیان کیفیت اسلام ہے عنان قلم پھیرتے ہیں سو واضح ہو کہ یہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اسلام کیا چیز ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے سو اس بیان کے بعد یہ تذکرہ بھی نہایت ضروری ہے کہ وہ حقیقت جس کا نام اسلام ہے کیونکر حاصل ہوسکتی ہے اور قرآن کریم میں اس کے حصول کے لئے کیا کیا وسائل بیان فرمائے گئے ہیں۔ اول جاننا چاہئے کہ کسی شے کا وسیلہ اس چیز کو کہاجاتا ہے جس کے ٹھیک ٹھیک عورتوں کو سقوط حمل کی ایک مرض ٹھہر جاتی ہے تو طبیب حاذق سمجھ لیتا ہے کہ رحم کی قوتیں کمزور ہوگئی ہیں تب وہ مثلاً اوائل حمل میں ایک ملیّن خفیف سا دیتا ہے اور مواد موذیہ کو دور کر کے مقوّ یات رحم مثلاً جوارش لؤلؤ اور دواء المسک وغیرہ استعمال کراتا ہے اور عورت کو اس کے مرد سے پرہیز فرماتا ہے تب اس تجویز سے صریح فائدہ محسوس ہوتا ہے اور بچہ ساقط ہونے سے بچ جاتا ہے ایسا ہی جب دانا باغبان کسی پھل دار درخت کو ایسا پاتا ہے کہ اب وہ پھل کم دیتا ہے تو وہ غور کرتا ہے کہ اس کا کیا سبب ہے تب بلحاظ اسباب متفرقہ کبھی وہ شاخ تراشی کرتا ہے اور کبھی دور کھود کر بقدر ضرورت آبپاشی کراتا ہے اور کبھی معمولی کھاد اور بلحاظ شیون و صفات کاملہ و ظلیّت تام روح الٰہی کا مظہر تام ہے۔ پھر بعد اس کے انسان کو ہم نے دوسرے طور پر پیدا کرنے کے لئے یہ طریق جاری کیا جو انسان کے اندر نطفہ پیدا کیااور اس نطفہ کو ہم نے ایک مضبوط تھیلی میں جو ساتھ ہی رحم میں بنتے