آنکھوؔ ں میں بھی نور ہوگا اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہوگا اور جن راہوں میں تم چلو گے وہ راہ نورانی ہوجائیں گی۔ غرض جتنی تمہاری راہیں تمہارے قویٰ کی راہیں تمہارے حواس کی راہیں ہیں وہ سب نور سے بھر جائیں گی اور تم سراپا نور میں ہی چلو گے۔ اب اس آیت سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ تقویٰ سے جاہلیت ہرگز جمع نہیں ہوسکتی ہاں فہم اور ادراک حسب مراتب تقویٰ کم و بیش ہوسکتا ہے اسی مقام سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بڑی اور اعلیٰ درجہ کی کرامت جواولیاء اللہ کو دی جاتی ہے جن کو تقویٰ میں کمال ہوتا ہے وہ یہی دی جاتی ہے کہ ان کے تمام حواس اور عقل اور فہم اور قیاس میں نور رکھا جاتا ہے اور ان کی قوت کشفی نور کے پانیوں سے ایسی صفائی حاصل کر لیتی ہے کہ جو دوسروں آتے اور کیوں ان کی کسی مدد کا ہمیں احساس نہیں ہوتا اور ہم صریح دیکھتے ہیں کہ ہریک چیز اپنی فطرتی طاقت سے کام دے رہی ہے مثلاً رحم میں جو بچہ پیدا ہوتا ہے یا درختوں کو جو پھل لگتے ہیں یا کانوں میں جو طرح طرح کے جواہر پیدا ہوتے ہیں تو صرف اس ایک طبعی طریق سے جو چلا آتا ہے طبیعت مدبّرہ حیوانی اور نباتی اور جمادی اپنے فعل کو کمال تک پہنچاتی ہے جیسا کہ حکماء کا قدیم سے یہی قول ہے اور تجربہ بھی اسی قول کا مؤید نظر آتاہے کیونکہ کبھی ہم حیوانی اور نباتی اور جمادی افعال کو اپنے ارادوں کے بھی تابع کر لیتے ہیں یعنی اپنی تدبیروں کے موافق اپنے کام صادر کراسکتے ہیں مثلاً رحم میں جو کبھی بچہ قبل از تکمیل خلقت ساقط ہوجاتا ہے اور انواع اور اقسام کا ُ لب لباب تھااور اس کی تمام قوتیں اپنے اندر رکھتا تھا تا وہ باعتبار جسم بھی عالم صغیر ٹھہرے اور زمین کی تمام چیزوں کی اس میں قوت اور خاصیت ہو جیسا کہ وہ برطبق آیت 3 ۱؂ باعتبار روح عالم صغیر ہے ۱؂ الحجر: