ہوؔ جو علوم اور عقائد صحیحہ سے بے خبری اور ناراست اور بے ہودہ باتوں میں مبتلا ہونا ہے تو یہ تو صریح متقیوں کی صفت کے برخلاف ہے کیونکہ حقیقی تقویٰ کے ساتھ جاہلیت جمع نہیں ہوسکتی۔ حقیقی تقویٰ اپنے ساتھ ایک نور رکھتی ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے 33 ۱؂۔ 3۲؂ ۔ یعنی اے ایمان لانے والو اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں فرق رکھ دے گاوہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گاجس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قویٰ اور حواس میں آجائے گاتمہاری عقل میں بھی نور ہوگا اور تمہاری ایک اٹکل کی بات میں بھی نور ہوگا اور تمہاری عالم ایک ہی ذات سے صادر ہیں اور اس ذات واحد لاشریک کا یہی تقاضا ہونا چاہئے کہ دونوں نظام ایک ہی شکل اور طرز پر واقع ہوں تا دونوں مل کر ایک ہی خالق اور صانع پر دلالت کریں کیونکہ توحید فی النظام توحید باری عزّاسمہ‘ کے مسئلہ کو مؤیّد ہے وجہ یہ کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر کئی خالق ہوتے تو اس نظام میں اختلاف کثیر پایا جاتا۔ غرض یہ بات نہایت سیدھی اور صاف ہے کہ ملائک اللہ عالم کبیر کے لئے ایسے ہی ضروری ہیں جیسے قویٰ روحانیہ وحسیّہ نشاء انسانیہ کے لئے جو عالم صغیر ہے۔ اگر یہ اعتراض پیش کیا جائے کہ اگر ملائک فی الحقیقت موجود ہیں تو کیوں نظر نہیں 33 33 3۳؂ یعنی پہلے تو ہم نے انسان کو اس مٹی سے پیدا کیا جو زمین کے تمام س بات کا ثبوت کہ چھ۶ دن میں زمین و آسمان کو کیوں پیدا کیا ۱؂ الانفال:۳۰ ۲؂ الحدید:۲۹ ۳؂ المومنون:۱۳ تا