جسؔ سے خدا تعالیٰ کا یہ منشاء ثابت ہوتا ہے کہ تمام انسانوں نے اس امانت کو کامل طور پر قبول نہیں کیا صرف مومنوں نے قبول کیا ہے اور منافقوں اور مشرکوں کی فطرتوں میں گو ایک ذرّہ استعداد کا موجود تھا مگر بوجہ نقصان استعداد وہ کامل طور پر اس پیارے لفظ ظلوم اور جہول سے حصہ نہ لے سکے اور جن کو بڑی قوت ملی تھی وہ کامل طور پر اس نعمت کو لے گئے۔ انہوں نے اس امانت کے قبول کرنے کا صرف اپنی زبان سے اقرار نہیں کیا بلکہ اپنے اعمال اور افعال میں ثابت کر کے دکھلا دیا اور جو امانت لی تھی کمال دیانت کے ساتھ اس کو واپس دے دیا۔ بالآخر یہ بھی واضح رہے کہ جہول کا لفظ بھی ظلوم کے لفظ کی طرح ان معنوں میں استعمال کیا گیا ہے جو ا ّ تقا اور اصطفا کے مناسب حال ہیں کیونکہ اگر جاہلیت کا حقیقی مفہوم مراد یہ کہیں کہ ملائک کی نسبت جو اجرام علوی اور اجسام سفلی کی طرف ہے وہ درحقیقت ایسی ہی ہے جیسے قویٰ روحانیہ اور حسیّہ کی نسبت بدن انسان کی طرف ہے کیونکہ جیسا کہ نفس ناطقہ انسان کا بدن انسان کی تدبیر بتوسط قویٰ روحانیہ اور حسیّہ کے کرتا ہے ایسا ہی قیّوم العالم جو تمام عالم کے بقا اور قیام کے لئے نفس مدبّرہ کی طرح اور بحکم آیت 3۱؂ ان کی حیات کا نور ہے تدبیر عالم کبیر کی بواسطہ ملائک کے فرماتا ہے اور ہمیں اس بات کے ماننے سے چارہ نہیں کہ جو کچھ عالم صغیر میں ذات واحد لاشریک کا نظام ثابت ہوا ہے اسی کے مشابہ عالم کبیر کا بھی نظام ہے۔کیونکہ یہ دونوں زمانہ سے خاص نہیں چنانچہ اللہ جلّ شانہٗ ہر ایک انسان کی پیدائش کی نسبت بھی انہیں مراتب ستہ کا ذکر فرماتا ہے جیسا کہ قران کریم کے اٹھارویں سیپارے سورۃ المؤمنون میں یہ آیت ہے 33 3 ۱؂ النور:۳۶