33333۔۱؂ یعنی انسان نے جو امانت اللہ کو قبول کر لیا تو اس سے یہ لازم آیا جو منافقین اور منافقات اور مشرکین اور مشرکات جنہوں نے صرف زبان سے قبول کیا اور عملاً اس کے پابند نہیں ہوئے وہ معذ ب ہوں اور مومنین اور مومنات جنہوں نے امانت کو قبول کر کے عملاً پابندی بھی اختیار کی وہ مورد رحمت الٰہی ہوں۔ یہ آیت بھی صاف اور صریح طور پر بول رہی ہے کہ آیت موصوفہ میں ظلوم و جہول سے مراد مومن ہیں جن کی طبیعتوں اور استعدادوں نے امانت کو قبول کر لیا اور پھر اس پر کاربند ہوگئے کیونکہ صاف ظاہر ہے کہ مشرکوں اور منافقوں نے کامل طور پر قبول نہیں کیا اور حملھا الانسان میں جو انسان کے لفظ پر الف لام ہے وہ بھی درحقیقت تخصیص کے لئے ہے یا آپ ہی چاند ہوگیا ہے یا آپ ہی زمین ہے جس پر ہزارہا ملک آباد ہیں پس ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان بلاشبہ ایک عالم صغیر ہے جو اپنے نفس میں عالم کبیر کا ہریک نمونہ رکھتا ہے اور یہ نہایت عمدہ طریق ہے کہ جب عالم کبیر کے عجائبات دقیقہ میں سے کوئی سر مخفی سمجھ نہ آوے تو عالم صغیر کی طرف رجوع کیا جاوے اور دیکھا جاوے کہ وہ اس میں کیا گواہی دیتا ہے کیونکہ یہ دونوں عالم مرا یا متقابلہ کی طرح ہیں اور جس عالم کو ہم نے بجزئیاتہ دیکھ لیا ہے اس کو ہم دوسرے عالم کی تشخیص کے لئے ایک پیمانہ ٹھہرا سکتے ہیں اور بلاشبہ اس کی شہادت ہمارے لئے موجب اطمینان ہوسکتی ہے اب جب کہ یہ تمہید ممہد ہوچکی تو نہایت درست ہوگا اگر ہم اور خواہ ایک فرد از افراد عالم اور خواہ وہ عالم کبیر ہے جو زمین و آسمان ومافیہا سے مراد ہے اور خواہ وہ عالم صغیر جو انسان سے مراد ہے وہ بحکمت و قدرت باری تعالیٰ پیدائش کے چھ مرتبے طے کر کے اپنے کمال خلقت کو پہنچتی ہے اور یہ عام قانون قدرت ہے کچھ ابتدائی ۱؂ الاحزاب: