غرضؔ ان آیتوں کی حقیقت واقعی یہی ہے جو خدا تعالیٰ نے میرے پر کھولی اور میں ہرگز ایسے معنی نہیں کروں گا جن سے ایک طرف تو یہ لازم آوے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ پاک امانت نہیں تھی بلکہ کوئی فساد کی بات تھی جو ایک مفسد ظالم نے قبول کر لی اور نیکوں نے اس کو قبول نہ کیا اور دوسری طرف تمام مقدس رسولوں اور نبیوں کو جو اول درجہ پر امانت کے محمل ہیں ظالم ٹھہرایا جاوے ۔اور میں بیان کرچکا ہوں کہ دراصل امانت اور اسلام کی حقیقت ایک ہی ہے اور امانت اور اسلام دراصل محمود چیز ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ کا دیا ہوا اسی کو واپس دیا جاوے جیسے امانت واپس دی جاتی ہے پس جس نے ایک محمود اور پسندیدہ چیز کو قبول کر لیا اور خدا تعالیٰ کے حکم سے منہ نہ پھیرا اور اس کی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم رکھا وہ لائق مذمت کیوں ٹھہرے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ اس آیت کے آگے خدا تعالیٰ فرماتا ہے
آفتاب کی طرح یہ ایک روشنی بھی رکھتا ہے اور ماہتاب کی طرح ایک نور بھی اور رات کی طرح ایک ظلمت بھی اور زمین کی طرح ہزارہا نیک اور بدارادوں کا منبت ہوسکتا ہے اور درختوں کی طرح نشوونما رکھتا ہے اور اپنی قوت جاذبہ کے ساتھ ہر ایک چیز کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے اور ایسا ہی اس کا عالم صغیر ہونا اس طرح بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ اپنے کشوف صادقہ اور رویا صالحہ کے وقت عالم کبیر کی ہر ایک چیز کو اپنے اندر پاتا ہے کبھی اپنے کشفوں اور خوابوں میں چاند دیکھتا ہے کبھی سورج کبھی ستارے کبھی طرح طرح کی نہریں اور باغ اور کبھی آگ اور ہوا وغیرہ اور زیادہ تر عجیب یہ کہ کبھی اپنے رویا صالحہ اور کشوف صادقہ میں ایسا پاتا ہے کہ آپ ہی سورج بن گیا
لیکن چھ دن کی تخصیص کچھ سمجھ میں نہیں آتی۔
اماالجواب پس واضح ہو کہ یہ چھ دن کا ذکر درحقیقت مراتب تکوینی کی طرف اشارہ ہے یعنی ہریک چیز جو بطور خلق صادر ہوئی ہے اور جسم اور جسمانی ہے خواہ وہ مجموعہ عالم ہے