آیاؔ ت کا مقابلہ کر کے صاف طور پر کھلتا ہے کہ اس جگہ ضَالّ کے معنے گمراہ نہیں ہے بلکہ انتہائی درجہ کے تعشق کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ حضرت یعقوب کی نسبت اسی کے مناسب یہ آیت ہے 3 ۱؂ ۔سو یہ دونوں لفظ ظلم اور ضلالت اگرچہ ان معنوں پر بھی آتے ہیں کہ کوئی شخص جادہ اعتدال اور انصاف کو چھوڑ کر اپنے شہوات غضبیہ یا بہیمیہ کا تابع ہوجاوے۔ لیکن قرآن کریم میں عشاق کے حق میں بھی آئے ہیں جو خدا تعالیٰ کے راہ میں عشق کی مستی میں اپنے نفس اور اس کے جذبات کو پیروں کے نیچے کچل دیتے ہیں۔ اسی کے مطابق حافظ شیرازی کا یہ شعر ہے۔ آسماں بارِ امانت نتوانست کشید قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند اس دیوانگی سے حافظ صاحب حالت تعشق اور شدت حرص اطاعت مراد لیتے ہیں۔ کیونکہ نفس ناطقہ نہایت تجرد اور لطافت میں تھا اور بدن انسان محجوب بنفسہ اور کثافت اور ظلمت میں پڑا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان میں قوی روحانیہ اور حسیّہ کو ذوجہتین پیدا کیا تا وہ قویٰ نفس ناطقہ سے فیضان قبول کر کے تمام جسم کو اس سے متادب اور مہذّب کریں۔ جاننا چاہئے کہ انسان بھی ایک عالم صغیر ہے اور عالم کبیر کے تمام شُیُون اور صفات اور خواص اور کیفیات اس میں بھری ہوئی ہیں جیسا کہ اس کی طاقتوں اور قوتوں سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ ہر ایک چیز کی طاقت کا یہ نمونہ ظاہر کر سکتا ہے زمین اور آسمانوں کو چھ دن میں بنایا اور پھر عرش پر ٹھہرا یہ چھ دن کی کیوں تخصیص ہے یہ تو تسلیم کیا کہ خدا تعالیٰ کے کام اکثر تدریجی ہیں جیسا کہ اب بھی اس کی خالقیت جو جمادات اور نباتات اور حیوانات میں اپنا کام کررہی ہے تدریجی طور پر ہی ہر ایک چیز کو اس کی خلقت کاملہ تک پہنچاتی ہے ۱؂ یوسف: