3 اِس کے مقابل پر یہ فرمایا 3یعنی یاد کر کہ تو بھی ہمارے وصال اور جمال کا سائل اور ہمارے حقائق اور معارف کا طالب تھا سو جیسا کہ ہم نے باپ کی جگہ ہو کر تیری جسمانی پرورش کی ایسا ہی ہم نے استاد کی جگہ ہو کر تمام دروازے علوم کے تجھ پر کھول دیئے اور اپنے لقا کا شربت سب سے زیادہ عطا فرمایا اور جو تونے مانگا سب ہم نے تجھ کو دیا سو تو بھی مانگنے والوں کو رد مت کر اور ان کو مت جھڑک اور یاد کر کہ تو عائل تھا اور تیری معیشت کے ظاہری اسباب بکلّی منقطع تھے سو خدا خود تیرا متولّی ہوا اور غیروں کی طرف حاجت لے جانے سے تجھے غنی کردیا۔ نہ تو والد کا محتاج ہوا نہ والدہ کا نہ استاد کا اور نہ کسی غیر کی طرف حاجت لے جانے کا بلکہ یہ سارے کام تیرے خدا تعالیٰ نے آپ ہی کر دیئے اور پیدا ہوتے ہی اس نے تجھ کو آپ سنبھال لیا۔ سو اس کا شکر بجالا اور حاجت مندوں سے تو بھی ایسا ہی معاملہ کر۔ اب ان تمام مضغہ میں ہمارے جنین میں اور ہماری ہریک حرکت میں اور سکون میں اور قول میں اور فعل میں غرض ہماری تمام مخلوقیت کے لوازم میں کام کرتی ہے مگر وہ قیومیت بو جہ ہمارے محجوب بانفسنا ہونے کے براہ راست ہم پر نازل نہیں ہوتی کیونکہ ہم میں اور اس ذات الطف اللطائف اور اعلیٰ اور اغنٰی اور ُ نور الانور میں کوئی مناسبت درمیان نہیں کیونکہ ہر ایک چیز ہم میں سے خواہ وہ جاندار ہے یا بے جان محجوب بنفسہ اور ساحت قدسیہ تنزّ ہ سے بہت دور ہے اس لئے خدا تعالیٰ میں اور ہم میں ملائک کا وجود اسی طرح ضروری ہوا جیسا کہ نفس ناطقہ اور بدن انسان میں قوائے روحانیہ اور حسیّہ کا توسط ضروری ٹھہرا اور اس جگہ کے متعلق ایک اور اعتراض ہے جو بعض ناواقف آریہ پیش کیا کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے3 33 ۱؂ یعنی خدا نے جو تمہارا رب ہے خداتعالیٰ نے زمین اور آسمانوں کو چھ۶ دن میں کیوں پیدا کیا ۱؂ یونس: