کا ناؔ م اول المسلمین رکھتا ہے اور تمام مطیعوں اور فرمانبرداروں کا سردار ٹھہراتا ہے اور سب سے پہلے امانت کو واپس دینے والا آنحضرت صلعم کو قرار دیتا ہے تو پھر کیا بعد اس کے کسی قرآن کریم کے ماننے والے کو گنجائش ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اعلیٰ میں کسی طرح کا جرح کرسکے۔ خدا تعالیٰ نے آیت موصوفہ بالا میں اسلام کے لئے کئی مراتب رکھ کر سب مدارج سے اعلیٰ درجہ وہی ٹھہرایا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت کو عنایت فرمایا۔ سبحان اللّٰہ ما اعظم شانک یا رسول اللّٰہ
موسیٰ و عیسیٰ ہمہ خیلِ تواند
جملہ درین راہ طفیلِ تواند
پھر بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ اللہ جلّ شانہٗ اپنے ر سول کو فرماتا ہے کہ ان کو کہہ دے کہ میری راہ جو ہے وہی راہ سیدھی ہے سو تم اس کی پیروی کرو اور اَور راہوں پر مت چلو کہ وہ تمہیں خدا تعالیٰ سے دور ڈال
اپنے اندر رکھتی ہوں مجفّف ہوں قابض ہوں جالی ہوں اور منضج اور مقطع مواد لزجہ ہوں اور سموم باردہ کا تریاق ہوں خاص کر عقرب کیلئے اور اخلاط غلیظہ اور رقیقہ کا مسہل ہوں اور حیض اور بول کی مدر ہوں اور جگر کو قوت دیتی ہوں اور اس کے اور نیز طحال اور امعاء کےُ سدّ ے کھولتی ہوں اور ریحوں کو تحلیل کرتی ہوں اور پرانی کھانسی کو مفید ہوں اور ضیق النفس اور سل اور قرحہ ریہ وامعاء اور استسقاء کی تمام قسموں اور یرقان سدی اور اسہال سدی اور ماساریقا اور ذو سنطار یا اور تحلیل نفخ اور ریاح اور اور ام باردہ احشا و تخمہ و مغص و بواسیر و نواسیر و تپ ربع کو مفید ہوں۔ اور جدوار کہتی ہے کہ میں تیسرے درجہ کے اول مرتبہ میں گرم اور خشک ہوں اور حرارت غریزی سے بہت ہی مناسبت رکھتی ہوں اور
چل سکتا ہے اور آہستہ آہستہ چلنے سے وہ عاجز ہے بلکہ اس شخص کو کامل القدرت کہیں گے کہ جو دونوں طور جلد اور دیر میں قدرت رکھتا ہویا مثلاً ایک شخص ہمیشہ اپنے ہاتھ کو لمبا رکھتا ہے اور اکٹھا کرنے کی