جو ؔ خدا تعالیٰ کی ساری امانتیں اس کو واپس دینے والا ہو۔ اس آیت میں ان نادان موحدوں کا ردّ ہے جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسرے انبیاء پر فضیلت کلی ثابت نہیں اور ضعیف حدیثوں کو پیش کر کے کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مجھ کو یونس بن متیّٰ سے بھی زیادہ فضیلت دی جائے۔ یہ نادان نہیں سمجھتے کہ اگر وہ حدیث صحیح بھی ہو تب بھی وہ بطور انکسار اور تذلل ہے جو ہمیشہ ہمارے سیّد صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی ہر ایک بات کا ایک موقع اور محل ہوتا ہے اگر کوئی صالح اپنے خط میں احقر عباد اللہ لکھے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ یہ شخص درحقیقت تمام دنیا یہاں تک کہ بت پرستوں اور تمام فاسقوں سے بدتر ہے اور خود اقرار کرتا ہے کہ وہ احقر عباد اللہ ہے کس قدر نادانی اور شرارت نفس ہے۔ غور سے دیکھنا چاہیئے کہ جس حالت میں اللہ جلّ شانہٗ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چیز ہوں اور بالخاصیت قوت اور احراق میرے اندر ہے اور اندھیرے میں قائم مقام آفتاب ہوں اسی طرح زمین کی ہر ایک چیز بزبان حال اپنی ثنا کررہی ہے مثلاً سنا کہتی ہے کہ میں دوسرے درجہ کے آخری حصہ میں گرم اور اول درجہ میں خشک اور بلغم اور سودا اور صفرا اور اخلاط سوختہ کا مسہل ہوں اور دماغ کی منقّی ہوں ۔اور صرع اور شقیقہ اور جنون اور صداع ُ کہنہ و درد پہلو و ضیق النفس و قولنج و عرق النساء و نقرس و تشنج عضل و داء الثعلب و داء الحیہ اورحکہ اور جرب اور بثورُ کہنہ اور اوجاع مفاصل بلغمی و صفراوی مخلوط باہم اور تمام امراض سوداوی کو نافع ہوں اور ریوند بول رہی ہے کہ میں مرکب القویٰ ہوں اور دوسرے درجہ کی پہلے مرتبہ میں گرم اور خشک ہوں اور بالعرض مبرّد بھی بوجہ شدت تحلیل ہوں اور رطوبات فضلیہ اور کامل ارادہ کہا جائے گا جب کہ وہ ایک فاعل کے اصل منشاء کے موافق جلد یا دیر کے ساتھ جیسا کہ منشاء ہو ظہور میں آوے مثلاً چلنے میں کامل قدرت اس شخص کی نہیں کہہ سکتے کہ جلد جلد وہ ہمارے نبی صلعم کو تمام انبیاء پر فضیلت کلّی ہے۔