دیںؔ گی۔ ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو آؤ ۔میرے پیچھے پیچھے چلنا اختیار کرو یعنی میرے طریق پر جو اسلام کی اعلیٰ حقیقت ہے قدم مارو تب خدا تعالیٰ تم سے بھی پیار کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ ان کو کہہ دے کہ میری راہ یہ ہے کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ اپنا تمام وجود خدا تعالیٰ کو سونپ دوں اور اپنے تئیں ربّ العالمین کے لئے خالص کر لوں یعنی اس میں فنا ہو کر جیسا کہ وہ ربّ العالمین ہے میں خادم العالمین بنوں اور ہمہ تن اسی کا اور اسی کی راہ کا ہو جاؤں۔ سو میں نے اپنا تمام وجود اور جو کچھ میرا تھا خدا تعالیٰ کا کردیا ہے اب کچھ بھی میرا نہیں جو کچھ میرا ہے وہ سب اس کا ہے۔ اور یہ وسوسہ کہ ایسے معنے آیت ظلوم و جہول کے کس نے متقدمین سے کئے ہیں اور کون اہل زبان میں سے ظلم کے ایسے معنی بھی کرتا ہے اس وہم کا جواب یہ ہے کہ ہمیں بعد مفرح اور مقوی قویٰ اور اعضاء رئیسہ دل اور دماغ اور کبد ہوں اور احشاء کی تقویت کرتی ہوں اور تمام گرم اور سرد زہروں کا تریاق ہوں۔ اور اسی وجہ سے زرنباد اور مشک اور زنجبیل کا قلیل حصہ اپنے ساتھ ملا کر تیزاب گوگرد اور آب قاقلہ سفید اور آب پودینہ اور آب بادیان کے ساتھ ہیضہ وبائی کو باذن اللہ بہت مفید ہوں اور مسکن اوجاع اور مقوی باصرہ ہوں اور تفتیت حصاۃ اور قلع قولنج و عسر البول و رفع تپ ربع میں نفع رکھتی ہوں اور بقدر نیم مثقال گزیدہ مار اور عقرب کے لئے بہت ہی فائدہ مند ہوں یہاں تک کہ عقرب جرارہ کی بھی زہر دور کرتی ہوں اور بید مشک اور عرق نیلوفر کے ساتھ دل کے ضعف کو بہت جلد نفع پہنچاتی ہوں اور کم ہوتی ہوئی نبض کو تھام لیتی ہوں اور گلاب کے طاقت نہیں یا کھڑا رہتا ہے اور بیٹھنے کی طاقت نہیں تو ان سب صورتوں میں ہم اس کو قوی قرار نہیں دیں گے بلکہ بیمار اور معلول کہیں گے غرض قدرت اسی وقت کامل طور پر متحقق ہو سکتی ہے اس وسوسہ کا جواب کہ آیا کسی نے متقدمین سے اس آیت کے یہ معنے کئے ہیں