دوزؔ خ کے بعد متقیوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو دوزخ میں گرے ہوئے چھوڑ دیں گے۔ اور نجات دینے کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ اول انسان کسی عذاب یا بلا میں مبتلا ہو پھر اس سے اس کو رہائی بخشی جاوے لیکن ان معنوں کی رو سے نعوذ باللہ لازم آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے مقرب بندے کسی حد تک عذاب دوزخ میں مبتلا ہو جائیں گے اور پھر اس سے ان کو نجات دی جائے گی تو اس وہم کا یہ جواب ہے کہ نجات کا لفظ اس جگہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں بلکہ اس سے صرف اس قدر مراد ہے کہ مومنوں کا نجات یافتہ ہونا اس وقت ہم ظاہر کر دیں گے اور لوگوں کو دکھائیں گے کہ وہ اس سخت قلق اور کرب کی جگہ سے نجات پا کر اپنی مرادات کو پہنچ گئے اور قرآن کریم میں یہ سنت اللہ ہے کہ بعض الفاظ اپنی اصلی حقیقت سے پھر کر مستعمل ہوتے ہیں جیسا کہ فرماتا ہے 33۔۱ یعنی قرض دو اللہ کو قرض اچھا۔ اب ظاہر ہے کہ قرض کی اصل تعریف کے مفہوم میں یہ داخل ہے
بھرے ہوئے کام صرف بے جان اور بے شعور اور بے تدبیر اجرام اور عناصر اور دوسری کائنات الجو سے ہرگز نہیں ہوسکتے۔ بے شک خدا تعالیٰ اس بات پر تو قادر تھا کہ ان چیزوں سے یہ سب کام لے لیتا لیکن اگر وہ ایسا کرتا تو اول ان چیزوں کو فہم اور ادراک اور شعور اور وضع الشیء فی محلہ کی عقل بخشتا اور جب کہ یہ ثابت نہیں تو پھر ضرورتاً یہ ثابت ہے کہ ان کے
اس کی جگہ لیں گی۔ اور علل ناقصہ کے فنا اور انعدام کے بعد علت تامہ کاملہ کا چہرہ نمودار ہوجائے گا اسی کی طرف اشارہ ہے۔ 33 3۔۲ 33 ۳ یعنی خدا تعالیٰ اپنی قہری تجلی سے ہریک چیز کو معدوم کر کے اپنی وحدانیت اور یگانت دکھلائے گا اور خدا تعالیٰ کے وعدوں سے مراد یہ بات نہیں کہ اتفاقاً کوئی بات منہ سے نکل گئی اور پھر ہر حال گلے پڑا ڈھول بجانا پڑا کیونکہ اس قسم کے وعدے سے خدائے حکیم و علیم کی شان کے لائق نہیں یہ صرف انسان ضعیف البنیان کا خاصہ ہے جس کا کوئی و عدہ تکلف اور ضعف یا مجبوری اور لاچاری
۱ الحدید:۱۹ ۲ الرحمٰن:۲۷۔۲۸ ۳ المومن:۱۷