کہؔ انسان حاجت اور لاچاری کے وقت دوسرے سے بوقت دیگر ادا کرنے کے عہد پر کچھ مانگتا ہے لیکن اللہ جلّ شانہٗ حاجت سے پاک ہے پس اس جگہ قرض کے مفہوم میں سے صرف ایک چیز مراد لی گئی یعنی اس طور سے لینا کہ پھر دوسرے وقت اس کو واپس دیدینا اپنے ذمہ واجب ٹھہرا لیا ہو۔ ایسا ہی یہ آیت 33۔۱؂ اصل مفہوم سے پھیری گئی کیونکہ عرف عام میں آزمائش کرنے والا اس نتیجہ سے غافل اور بے خبر ہوتا ہے جو امتحان کے بعد پیدا ہوتا ہے مگر اس سے اس جگہ یہ مطلب نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے امتحان میں ڈالنے سے یہ مطلب ہے کہ تا شخص زیر امتحان پر اس کے اندرونی عیب یا اندرونی خوبیاں کھول دے۔ غرض اسی طرح یہ لفظ نجات بھی اپنے حقیقی معنوں سے پھیرا گیا ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اس کی تصریح ثابت ہے اور وہ یہ ہے 3 3333۔۲؂ ساتھ درپردہ اور چیزیں ہیں جن کو وَضع الشّیء فی محلّہٖ کی عقل دی گئی ہے اور وہی ملائک ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ کوئی ایسا شخص جو خدا تعالیٰ کے وجود پر ایمان لاتا ہے اور اس کو رحیم اور کریم اور مدبر اور عادل سمجھتا ہے وہ ہرگز ایسا خیال نہیں کرے گا کہ اس حکیم و کریم نے اپنی ربوبیت کے نظام کا تمام کارخانہ ایسی چیزوں کے ہاتھ میں دے دیا ہے جن کو نیک و بد کے موانع سے ہمیشہ محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اور باایں ہمہ تقریبات اتفاقیہ پر مبنی ہوتا ہے نہ علم اور یقین اور حکمت قدیمہ پر۔ مگر خدا تعالیٰ کے وعدے اس کی صفات قدیمہ کے تقاضا کے موافق صادر ہوتے ہیں اور اس کے مواعید اس کی غیر متناہی حکمت کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے۔ اور اگر اس جگہ کوئی یہ اعتراض پیش کرے کہ خدا تعالیٰ نے آسمانوں کو سات میں کیوں محدود کیا اس کی کیا وجہ ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ درحقیقت یہ تاثیرات مختلفہ کی طرف اشارہ ہے جو مختلف طبقات سماوی سے مختلف ستارے اپنے اندر جذب کرتے ہیں ۱؂ البقرۃ:۱۵۶ ۲؂ الزمر:۶۱