ایکؔ تمثلی خلق کا عالم ہے یہ خدا تعالیٰ کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے کہ وہ بعض اشیاء کو تمثلی طور پر ایسا ہی پیدا کر دیتا ہے جیسا دوسرے طور پر ہوا کرتا ہے جیسے تم دیکھتے ہو کہ آئینہ میں تمہاری ساری شکل منعکس ہو جاتی ہے اور تم خیال کر سکتے ہو کہ کس طرح عکسی طور پر تمہاری تصویر کھینچی جاتی ہے کیسے تمہارے تمام خال و خط ان میں آجاتے ہیں۔ پھر اگر خدا تعالیٰ روحانی امور کی سچ مچ تصویر کھینچ کر اور ان میں صداقت کی جان ڈال کر تمہاری آنکھوں کے سامنے رکھ دیوے تو کیوں اس سے تعجب کیا جاوے اللہ جلّ شانہ‘ ڈھونڈنے والوں پر اسی دنیا میں یہ تمام صداقتیں ظاہر کر دیتا ہے اور آخرت میں کوئی بھی ایسا امر نہیں جس کی کیفیت اس عالم میں کھل نہ سکے۔ اور اگر یہ اعتراض کسی کے دل میں خلجان کرے کہ آیت3۔ کے بعد میں یہ آیت ہے کہ33۔۱؂ یعنی پھر ہم وُ رود اور خشک اور دھوپ میں سڑا ہوا رہ جاتا ہے۔ ایسا ہی کبھی ایک ہوا کا بگڑنا ایک شہر یا ایک اقلیم یا ایک محلہ کو سخت وبا میں ڈالتا ہے اور دوسری طرف کو بکلی بچا لیتا ہے اسی طرح ہم ہزار ہادقیق در دقیق ربانی مصالح دیکھتے ہیں۔ جن کو ہم بے شعور عناصر اور اجرام کی طرف ہرگز منسوب نہیں کر سکتے اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ ایسے مصالح سے مضامین کو اپنے اندر لپیٹ لیتا ہے۔ اور جس طرز سے ہم نے اس عالم کو وجود کی طرف حرکت دی تھی انہیں قدموں پر پھر یہ عالم عدم کی طرف لوٹایا جائے گا یہ وعدہ ہمارے ذمہ ہے جس کو ہم کرنے والے ہیں۔ بخاری نے بھی اس جگہ ایک حدیث لکھی ہے جس میں جائے غور یہ لفظ ہیں۔ و تکون السّمٰوات بیمینہٖ یعنی لپیٹنے کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں چھپا لے گا اور جیسا کہ اب اسباب ظاہر اور مسبب پوشیدہ ہے اس وقت مسبب ظاہر اور اسباب زاویہ عدم میں چھپ جائیں گے اور ہریک چیز اس کی طرف رجوع کر کے تجلیات قہر یہ میں مخفی ہوجائے گی۔ اور ہریک چیز اپنے مکان اور مرکز کو چھوڑ دے گی اور تجلیات الہٰیہ ۱؂ مریم:۷۳