کرؔ نے کی غرض سے کم کردینا اور گھٹا دینا اور اس قسم کے ظالموں کا قرآن کریم کے دوسرے مقامات میں توابین بھی نام ہے جن سے اللہ جلّ شانہ‘ پیار کرتا ہے۔ غرض ایسا خیال کرنا نعوذ باللہ سخت دھوکا ہے کہ ان ظالموں سے جو اس آیت میں درج ہیں وہ ظالم مراد لئے جائیں جو خدا تعالیٰ کے سخت نافرمان ہیں اور شرک اور کفر اور فسق کو اختیار کرنے والے اور اس پر راضی ہوجانے والے اور ہدایت کی راہوں سے بغض رکھنے والے ہیں بلکہ وہ ظالم مراد ہیں جو باوجود نفس کے سخت جذبات کے پھر افتاں خیزاں خدا تعالیٰ کی طرف دوڑتے ہیں۔ اس پر ایک اور قرینہ یہ ہے کہ اللہ جلّ شانہٗنے قرآن کریم کے نزول کی علت غائی 33 قرار دی ہے اور قرآن کریم سے رشد اور ہدایت اور فیض حاصل کرنے والے بالتخصیص متقیوں کو ہی ٹھہرایا ہے
آسمانی اجرام کیلئے جان کی طرح تھے وہ سب تعلقات کو چھوڑ کر کناروں پر چلے جائیں گے اور اس دن خدا تعالیٰ کے عرش کو آٹھ فرشتے اپنے سر پر اور کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس آیت کی تفسیر میں شاہ عبدالعزیز صاحب لکھتے ہیں کہ درحقیقت آسمان کی بقا بباعث ارواح کے ہے یعنی ملائک کے جو آسمان اور آسمانی اجرام کیلئے بطور روحوں کے ہیں اور جیسے روح بدن کی محافظ ہوتی ہے اور بدن پر تصرف رکھتی ہے اسی طرح بعض ملائک آسمان اور آسمانی اجرام پر تصرف رکھتے ہیں اور تمام اجرام سماوی ان کے ساتھ ہی زندہ ہیں اور انہیں کے ذریعہ سے صدور افعال کواکب ہے
جس کو وہ فلک الا فلاک اور محدّد بھی کہتے ہیں جو ان کے زعم میں معہ تین اور آسمانوں کے جن کا نام مدیر اور جو زہر اور مائل ہے مشرق سے مغرب کی طرف گردش کرتا ہے اور باقی آسمان مغرب سے مشرق کی طرف گھومتے ہیں اور ان کے گمان میں فلک محدّد معمورہ عالم کا منتہا ہے جس کے پیچھے خلا ملا نہیں۔ گویا خدا تعالیٰ نے اپنے ممالک مقبوضہ کی ایک دیوار کھینچی ہوئی ہے جس کا ماورا کچھ بھی نہیں نہ خلا نہ ملا۔
ہمارے ایک دوست کو اس بات کی تحقیق کی خواہش ہے کہ آیت انہ کان ظلومًا جھولًا میں ظلومًا جھولًا کے دو لفظ جو مقام مدح میں واقع ہیں ان کے کیا معنی ہیں پس چاہیئے کہ دوست موصوف اِس مضمون کو غور سے پڑھیں ۔
یونانیوں نے جو آسمانوں کے بارے میں تشریح کی ہے وہ تشریح قرآن کریم کی تشریح کے ساتھ مطابق نہیں ہے اور قرآن کریم کی تشریح آسمانوں کے وجود کی نسبت بالکل صحیح اور ایسی بدیہی صداقت ہے کہ کوئی عقلِ سلیم اس سے انکار نہیں کر سکتی۔