آپؔ متکفل ہے اور اس کی بعض آیات بعض دوسری آیات کی شرح کرتی ہیں یہ بات ظاہر ہے کہ اصطفاء کا عزت بخش لفظ کبھی دوسرے ظالموں کے حق میں خدا تعالیٰ نے استعمال نہیں کیا بلکہ ان کو مردود اور مخذول اور مورد غضب ٹھہرایا ہے مگر اس جگہ ظالم کو اپنا برگزیدہ قرار دیا اور مورد فضل ٹھہرایا ہے اور اس آیت سے صاف ثابت ہورہا ہے کہ جیسے مقتصداس لئے برگزیدہ ہے کہ مقتصدہے اور سابق بالخیرات اس لئے برگزیدہ ہے کہ وہ سابق بالخیرات ہے۔ اسی طرح ظالم بھی اس لئے برگزیدہ ہے کہ وہ ظالم ہے۔ پس کیا اب اس ثبوت میں کچھ کسر رہ گئی کہ اس جگہ ظلم سے مراد وہ ظلم ہے جو خدا تعالیٰ کو پیارا معلوم ہوتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کیلئے اپنے نفس پر اکراہ اور جبر کرنا اور نفس کے جذبات کو اللہ جلّ شانہٗکے راضی عرض اور جوہر کے حدوث اور قیام کا وہی موجب ہیں یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کے عرش کو بھی وہی اٹھائے ہوئے ہیں جیسا کہ آیت 3۱؂سے کلی طور پر فرشتوں کا تقرر ہریک چیز پر ثابت ہوتا ہے اور نیز قرآن کریم کی آیت مندرجہ ذیل بھی اسی پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے 3۔333 ۲؂ یعنی جب قیامت واقع ہوگی تو آسمان پھٹ جائے گا اور ڈھیلا اور سست ہو جائے گا اور اس کی قوتیں جاری رہیں گی * کیونکہ فرشتے جو آسمان اور *آج کل کے علم ہیئت کے محققین جو یورپ کے فلاسفر ہیں جس طرز سے آسمانوں کے وجود کی نسبت خیال رکھتے ہیں درحقیقت وہ خیال قرآن کریم کے مخالف نہیں کیونکہ قرآن کریم نے اگرچہ آسمانوں کو نراپول تو نہیں ٹھہرایا لیکن اس سماوی مادہ کا جو پول کے اندر بھرا ہوا ہے صلب اور کثیف اور متعسر الخرق مادہ بھی قرار نہیں دیا بلکہ ہوا یا پانی کی طرح نرم اور کثیف مادہ قرار دیا جس میں ستارے تیرتے ہیں اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے 33۳؂ ہاں یونانیوں نے آسمانوں کو اجسام کثیفہ تسلیم کیا ہوا ہے اور پیاز کے چھلکوں کی طرح تہ بتہ ان کو مانا ہے اور آخری تہ کا آسمان جو تمام تہوں پر محیط ہورہا ہے جمیع مخلوقات کا انتہا قرار دیا ہے ۱؂ الطارق:۵ ۲؂ الحاقۃ:۱۷۔۱۸ ۳؂ یٰس:۴۱ آسمانوں کی کیفیت