جیساؔ کہ وہ فرماتا ہے۔ 33333۔۱؂ پس اس علّت غائی پر نظر ڈال کر یقینی اور قطعی طور پر یہ بات فیصلہ پا جاتی ہے کہ ظالم کا لفظ اس آیت میں ایسے شخص کی نسبت ہرگز اطلاق نہیں پایا کہ جو عمدًا نافرمان اور سرکش اور طریق عدل کو چھوڑنے والا اور شرک اور بے ایمانی کو اختیار کرنے والا ہو۔ کیونکہ ایسا آدمی تو بلاشبہ دائرہ اتقا سے خارج ہے اور اس لائق ہرگز نہیں ہے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ قسم متقیوں میں اس کو داخل کیا جائے مگر آیت ممدوحہ میں ظالم کو متقیوں اور مومنوں کے گروہ میں نہ صرف داخل ہی کیا ہے بلکہ متقیوں کا سردار اور ان میں سے برگزیدہ ٹھہرا دیا ہے۔ پس اس سے جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں ثابت ہوا کہ یہ ظالم ان ظالموں میں سے پھر جب وہ ملائک جان کی طرح اس قالب سے نکل جائیں گے تو آسمان کا نظام ان کے نکلنے سے درہم برہم ہوجائے گا جیسے جان کے نکل جانے سے قالب کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے پھر ایک اور آیت قرآن کریم کی بھی اسی مضمون پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے 3 3 3۲؂سورۃ الملک الجزو نمبر ۲۹ یعنی ہم نے سماء الدنیا کو ستاروں کے ساتھ زینت دی ہے اور ستاروں کو ہم نے رجم شیاطین کیلئے ذریعہ ٹھہرایا ہے اور پہلے اس سے نص قرآنی سے ثابت ہو چکا ہے کہ آسمان سے زمین تک ہریک امر کے یونانیوں کی اس رائے پر جس قدر اعتراض وارد ہوتے ہیں وہ پوشیدہ نہیں نہ صرف قیاسی طور پر بلکہ تجربہ بھی ان کا مکذب ہے جس حالت میں آج کل کے آلات دوربین نہایت دور کے ستاروں کا بھی پتہ لگاتے جاتے ہیں اور چاند اور سورج کو ایسا دکھا دیتے ہیں کہ گویا وہ پانچ چار کوس پر ہیں تو پھر تعجب کا مقام ہے کہ باوجود یکہ آسمان یونانیوں کے زعم میں ایک کثیف جوہر ہے اور ایسا کثیف جو البقرۃ: ۲،۳ ۲؂ الملک: