اورؔ لحاظ کے فقط کم کرنے کیلئے بھی آیا ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام میں فرماتا ہے 33ای و لم تنقص اور خدا تعالیٰ کی راہ میں نفس کے جذبات کو کم کرنا بلاشبہ ان معنوں کی رو سے ایک ظلم ہے ماسوا اس کے ہم ان کتب لغت کو جو صدہا برس قرآن کریم کے بعد اپنے زمانہ کے محاورات کے موافق طیار ہوئی ہیں قران مجید کا حکم نہیں ٹھہرا سکتے۔ قرآن کریم اپنی لغات کیلئے جو الٰہی کلام کو دلوں تک پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے آیت3 ۱؂ میں فرشتوں اور ستاروں کو ایک ہی جگہ جمع کر دیا ہے یعنی اس آیت میں کواکب سبع کو ظاہری طور پر مدبر ما فی الارض ٹھہرایا ہے اور ملائک کو باطنی طور پر ان چیزوں کا مدبّر قرار دیا ہے۔ چنانچہ تفسیر فتح البیان میں معاذ بن جبل اور قشیری سے یہ دونوں روایتیں موجود ہیں اور ابن کثیر نے حسن سے یہ روایت ملائک کی نسبت کی ہے کہ تدبر الامرمن السّماء الی الارض یعنی آسمان سے زمین تک جس قدر امور کی تدبیر ہوتی ہے وہ سب ملائک کے ذریعہ سے ہوتی ہے اور ابن کثیر لکھتا ہے کہ یہ متفق علیہ قول ہے کہ مد ّ براتِ امر ملائک ہیں۔ اور ابن جریر نے بھی آیات 3 کے نیچے یہ شرح کی ہے کہ اس سے مراد ملائک ہیں جو مدبر عالم ہیں یعنی گو بظاہر نجوم اور شمس و قمر و عناصر وغیرہ اپنے اپنے کام میں مشغول ہیں مگر درحقیقت مدبر ملائک ہی ہیں۔ اب جبکہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے رو سے یہ بات نہایت صفائی سے ثابت ہو گئی کہ نظام روحانی کیلئے بھی نظام ظاہری کی طرح موثرات خارجیہ ہیں جن کا نام کلام الٰہی میں ملائکہ رکھا ہے تو اس بات کا ثابت کرنا باقی رہا کہ نظام ظاہری میں بھی جو کچھ ہورہا ہے ان تمام افعال اور تغیرات کا بھی انجام اور انصرام بغیر فرشتوں کی شمولیت کے نہیں ہوتا سو منقولی طور پر تو اس کا ثبوت ظاہر ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں کا نام مُدبّرات اور مقسّمات امر رکھا ہے اور ہریک ۱؂ النازعات: