وجوؔ د کے ساتھ آنحضرت صلعم کے پاس آتے تو خود یہ غیر ممکن تھا کیونکہ ان کا حقیقی وجود تو مشرق مغرب میں پھیلا ہوا ہے اور ان کے بازو آسمانوں کے کناروں تک پہنچے ہوئے ہیں پھر وہ مکہ یا مدینہ میں کیونکر سما سکتے تھے۔ جب تم حقیقت اور اصل کی شرط سے جبرائیل کے نزول کا عقیدہ رکھو گے تو ضرور تم پر یہ اعتراض وارد ہوگا کہ وہ اصلی وجود کیونکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ میں سما گیا اور اگر کہو کہ وہ اصلی وجود نہیں تھا تو پھر ترک اصل کے بعد تمثل ہی ہوا یا کچھ اور ہوا اصل کا نزول تو اس حالت میں ہو کہ جب آسمان میں اس وجود کا نام و نشان نہ رہے اور جب آسمان سے وہ وجود نیچے اتر آیا تو پھر ثابت کرنا چاہیئے کہ کہاں اس کے ٹھہرنے کی گنجائش ہوئی۔ غرض یہ خیال کہ جبرائیل اپنے اصلی وجود کے ساتھ زمیں پر اتر آتا تھا بدیہی البطلان ہے۔ خاص کر جب دوسری شق کی طرف نظر کریں اور اِس
کہ اجرام علوی اور اجسام سفلی اور تمام کائنات الجو میں جو کچھ تغیر اور تحول اور کوئی امر مستحدث ظہور میں آتا ہے اس کے حدوث کی درحقیقت دو علتیں یعنی موجب ہیں۔
اول۔ پہلے تو یہی سلسلہ علل نظام جسمانی جس سے ظاہری فلسفی اور طبعی بحث اور سروکار رکھتا ہے اور جس کی نسبت ظاہر بین حکماء کی نظریہ خیال رکھتی ہے کہ وہ جسمانی علل اور معلولات اور موثرات اور متاثرات سے منضبط اور ترتیب یافتہ ہے۔
دوم۔ دوسرے وہ سلسلہ جو ان ظاہر بین حکماء کی نظر قاصر سے مخفی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے ملائک کا سلسلہ ہے جو اندر ہی اندر اس ظاہری سلسلہ کو مدد دیتا ہے اور اس ظاہری کاروبار کو انجام تک پہنچا دیتا ہے اور بالغ نظر لوگ بخوبی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ بغیر تائید اس سلسلہ کے جو روحانی ہے ظاہری سلسلہ کا کام ہرگز چل ہی نہیں سکتا۔ اگرچہ ایک ظاہر بین فلاسفر اسباب کو موجود پا کر خیال کرتا ہے کہ فلاں نتیجہ ان اسباب کیلئے ضروری ہے مگر ایسے لوگوں کو ہمیشہ شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔
تمام تغیرات اجرام علوی اور اجسام سفلی کے لئے دو موجب ہیں