فسادؔ کو دیکھیں کہ ایسا عقیدہ رکھنے سے یہ لازم آتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام اکثر اوقات فیض وحی سے محروم اور معطل رہیں تو پھر نہایت بے شرمی ہوگی کہ اس عقیدہ کا خیال بھی دل میں لاویں۔ شیخ عبدالحق محدّث دہلوی مدارج النّبوت کے صفحہ ۸۳ میں لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کلمات و حدیث وحی خفی ہیں باستثناء چند مواضع یعنی قصہ اسارائے بدرو قصہ ماریہ و عسل و تابیر نخل جو نادر اور حقیر ہیں۔ اور پھر اسی صفحہ میں لکھتے ہیں کہ اوزاعی حسان بن عطیہ سے روایت کرتا ہے کہ نزول جبرائیل قرآن سے مخصوص نہیں بلکہ ہریک سنت نزول جبرائیل سے ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اجتہاد بھی وحی میں سے ہے۔ اور پھر صفحہ ۸۷ میں لکھتے ہیں کہ صحابہ آنحضرت صلعم کے ہریک قول و فعل قلیل و کثیر و صغیر و کبیر کو وحی سمجھتے تھے۔ اور اُس پر عمل کرنے میں
جبکہ باوجود اجتماع اسباب کے نتیجہ برعکس نکلتا ہے یا وہ اسباب اپنے اختیار اور تدبیر سے باہر ہوجاتے ہیں مثلاً ایک طبیب نہایت احتیاط سے ایک بیمار بادشاہ کا علاج کرتا ہے یا مثلاً ایک گروہ طبیبوں کا ایسے مریض کیلئے دن رات تشخیص مرض اور تجویز دوا اور تدبیر غذا میں ایسا مصروف ہوتا ہے کہ اپنے دماغ کی تمام عقل اس پر خرچ کردیتا ہے مگر جب کہ اس بادشاہ کی موت مقدر ہوتی ہے تو وہ تمام تجویزیں خطا جاتی ہیں اور چند روز طبیبوں اور موت کی لڑائی ہو کر آخر موت فتح پاتی ہے اس طور کے ہمیشہ نمونے ظاہر ہوتے رہتے ہیں مگر افسوس کہ لوگ ان کو غور کی نظر سے نہیں دیکھتے بہرحال یہ ثابت ہے کہ قادر مطلق نے دنیا کے حوادث کو صرف اسی ظاہری سلسلہ تک محصور اور محدود نہیں کیا بلکہ ایک باطنی سلسلہ ساتھ ساتھ جاری ہے۔ اگر آفتاب ہے یا ماہتاب یا زمین یا وہ بخارات جن سے پانی برستا ہے یا وہ آندھیاں جو زور سے آتی ہیں یا وہ اولے جو زمین پر گرتے ہیں یا وہ شہب ثاقبہ جو ٹوٹتے ہیں اگرچہ یہ تمام چیزیں اپنے کاموں اور تمام تغیرات اور تحولات اور حدوثات
سلف صالح کا یہ مذہب تھا کہ آنحضرت صلعم کی تمام عمر کے اقوال و افعال وحی سے ہیں