تمثلؔ کی بھی ہے جو اہل کشف کو صورت بشر پر نظر آتا ہے اور یہی مثال مکمل اولیا کی ہے جو مواضع متفرقہ میں بصور متعددہ نظر آجاتے ہیں۔
خدا تعالیٰ شیخ بزرگ عبدالحق محدث کو جزاء خیر دیوے کیونکہ انہوں نے بصدق دل قبول کر لیا کہ جبرائیل علیہ السلام بذات خود نازل نہیں ہوتا بلکہ ایک تمثلیوجود انبیاء علیہم السلام کو دکھائی دیتا ہے اور جبرائیل اپنے مقام آسمان میں ثابت و برقرار ہوتا ہے۔ یہ وہی عقیدہ اس عاجز کا ہے جس پر حال کے کور باطن نام کے علماء کفر کا فتویٰ دے رہے ہیں افسوس کہ یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ اس بات پر تمام مفسرین نے اور نیز صحابہ نے بھی اتفاق کیا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے حقیقی وجود کے ساتھ صرف دو مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی دیا ہے اور ایک بچہ بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ اگر وہ اپنے اصلی اور حقیقی
گویا ان کے پاس سب سے بڑھ کر یہی نظیریں ہیں وہ ذرہ غور سے سمجھ سکتے ہیں کہ اس صدی کے اواخر میں جو روحانی سلسلہ کے بڑے بڑے کام ظہور میں آنے والے تھے اور خدا تعالیٰ اپنے ایک بندہ کے توسط سے دین توحید کے تازہ کرنے کیلئے ارادہ فرما رہا تھا اس لئے اس نے اس انیسویں صدی عیسوی میں کئی دفعہ کثرت سقوط شہب کا تماشہ دکھلایا تا وہ امر موکد ہوجاوے جس کا قطعی طور پر اس نے ارادہ فرما دیا ہے۔
اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس تساقط شہب کو جس کے اسباب بتمامہا بظاہر مادی معلوم ہوتے ہیں رجم شیاطین سے کیا تعلق ہے اور کیونکر معلوم ہو کہ درحقیقت اس حادثہ سے شیاطین آسمان سے دفع اور دور کئے جاتے ہیں۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ایسے اعتراض درحقیقت اس وقت پیدا ہوتے ہیں کہ جب روحانی سلسلہ کی یاد داشت سے خیال ذہول کر جاتا ہے یا اس سلسلہ کے وجود پر یقین نہیں ہوتا ورنہ جس شخص کی دونوں سلسلوں پر نظر ہے وہ بآسانی سمجھ سکتا ہے
اس بات پرصحابہ کا اتفاق ہے کہ جبرائیل صرف دو مرتبہ اپنی اصلی صورت میں آسمان پر آنحضرت ؐ کو دکھائی دیا ہے اور زمین پر ہمیشہ تمثلی حالت میں دکھائی دیتا رہا ہے
اس سوال کا جواب کہ تساقط شہب کو رجم شیاطین سے کیا تعلق ہے