مائلؔ کر دیتا تھا جس میں خداتعالیٰ کے بہت مصالح تھے۔ سو ہم اُس اجہتادی غلطی کو بھی وحی سے علیحدہ نہیں سمجھتے کیونکہ وہ ایک معمولی بات نہ تھی بلکہ خداتعالیٰ اس وقت اپنے نبی کو اپنے قبضہ میں لے کر مصالح عام کے لئے ایک نور کو سہو کی صورت میں یا غلط اجتہاد کے پیرایہ میں ظاہر کردیتا تھا اور پھر ساتھ ہی وحی اپنے جوش میں آ جاتی تھی جیسے ایک چلنے والی نہر کا ایک مصلحت کے لئے پانی روک دیں اور پھر چھوڑ دیں پس اس جگہ کوئی عقلمند نہیں کہہ سکتا کہ نہر سے پانی خشک ہو گیا یا اُس میں سے اٹھا لیا گیا۔ یہی حال انبیاء کی اجتہادی غلطی کا ہے کہ روح القدس تو کبھی اُن سے علیحدہ نہیں ہوتا۔ مگر بعض اوقات خداتعالیٰ بعض مصالح کے لئے انبیاء کے فہم اور ادراک کو اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے تب کوئی قول یا فعل سہو یا غلطی کی شکل پر اُن سے صادر ہوتا ہے اور وہ حکمت جو ارادہ کی گئی ہے ظاہر ہو جاتی ہے تب اور نہایت تحقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم یہ خیال نہ کریں کہ کچھ عرصہ کے بعد اس طبیعی اور ہیئت پر بھی ہنسی کرنے والے پیدا ہو جائیں گے کیونکہ گو دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس زمانہ کے طبعی اور ہیئت تجارب حسیہ مشہودہ مرئیہ کے ذریعہ سے ثابت کی گئی ہے مگر درحقیقت یہ دعویٰ نہایت درجہ کا مبالغہ ہے جس سے بعض خاص صورتوں کے مسائل یقینیہ میں اُن ہزارہا مشتبہ اور ظنّی اور غیر محقق خیالات کو خواہ نخواہ گھسیڑ دیا گیا ہے جس کا ابھی تک ہرگز ہرگز پورا پورا اور کامل طور پر کسی حکیم نے تصفیہ نہیں کیا۔ نئی روشنی کے محقق شہب ثاقبہ کی نسبت یہ رائے دیتے ہیں کہ وہ درحقیقت لوہے اور کوئلہ سے بنے ہوئے ہوتے ہیں جن کا وزن زیادہ سے زیادہ چند پونڈ ہوتا ہے اور دُمدار ستاروں کی مانند غول کے غول لمبے بیضوی دائرے بناتے ہوئے سورج کے اردگرد جو میں پھرتے ہیں۔ ان کی روشنی کی وجہ درحقیقت وہ حرارت ہے جو اُن کی تیزیء رفتار سے پیدا ہوتی ہے ۔ اور دُمدار ستاروں کی نسبت اُن کا بیان ہے کہ بعض اُن میں سے کئی ہزار یہ دعویٰ بالکل بیہودہ اور بے اصل ہے کہ حال کے طبعی اور ہیئت کے تمام مباحث اور جمیع جُزئیات یقینی اور قطعی طور پر تجارب کے ذریعہ سے ثابت کئے گئے ہیں ہاں یہ سچ ہے کہ بعض مسائل تجارب کے ذریعہ سے کسی قدر صاف ہو گئے ہیں مگر ان کو باقی ماندہ مسائل کی طرف وہ نسبت ہے جو شاذونادر کو کثیر الوجود کی طرف ہوتی ہے۔