جائےؔ کہ اُنہیں احادیث کی کتابوں میں بعض امور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجتہادی غلطی کا بھی ذکر ہے اگر کل قول و فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وحی سے تھا تو پھر وہ غلطی کیوں ہوئی گو آنحضرت اس پر قائم نہیں رکھے گئے۔ تو اِس کا یہ جواب ہے کہ وہ اجتہادی غلطی بھی وحی کی روشنی سے دور نہیں تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خداتعالیٰ کے قبضہ سے ایک دم جدا نہیں ہوتے تھے پس اُس اجتہادی غلطی کی ایسی ہی مثل ہے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں چند دفعہ سہو واقع ہوا تا اُس سے دین کے مسائل پیدا ہوں سو اسی طرح بعض اوقات اجتہادی غلطی ہوئی تا اُس سے بھی تکمیل دین ہو۔ اور بعض باریک مسائل اُس کے ذریعہ سے پیدا ہوں اور وہ سہو بشریت بھی تمام لوگوں کی طرح سہو نہ تھا بلکہ دراصل ہمرنگ وحی تھا کیونکہ خداتعالیٰ کی طرف سے ایک خاص تصرّف تھا جو نبی کے وجود پر حاوی ہو کر اُس کو کبھی ایسی طرف
موجود رہے تو اُس کی حرارت سے کئی ہولناک نتائج پیدا ہو جاتے ہیں۔
تاریخ کی رُو سے یہ بھی منقول ہے کہ حضرت مسیح کی گرفتاری کے بعد اوّل شہب ثاقبہ اور پھر ایک زمانہ آتش پورے ایک برس تک جو آسمانی میں دکھائی دیا اور آسمان پر سے ایک چیز خاکستر کی طرح برستی تھی اور دن کے نو بجے سے رات تک ایک سخت اندھیرا ہو جاتا تھا۔
غرض شہب اور دُمدار ستاروں کی اصلیت میں یونانیوں کے خیالات ہیں جو اسلام کے حکماء نے لے لئے اور اپنے تجارب کو بھی ان میں ملایا لیکن حال کی نئی روشنی کی تحقیقاتوں کا اُن سے بہت کچھ اختلاف ثابت ہوتا ہے ان ظنّی علوم میں یہ بات نہایت درجہ دل توڑنے والی ہے کہ آئے دن نئے نئے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک زمانہ وہ تھا کہ یونان کی طبیعی اور ہیئت حکمت کے کمال تک پہنچنے کے لئے ایک صراطِ مستقیم سمجھی جاتی تھی اور اب یہ زمانہ ہے کہ اُن کی اکثر تحقیقاتوں پر ہنسا جاتا ہے
آنحضرتؐ کی اجتہادی غلطی بھی وحی الٰہی کے ایک رنگ سے رنگین تھی اور اس اجتہادی غلطی میں
بھی آنحضرت صلعم خداتعالیٰ کے خاص تصرف اور خاص طور کے جذب میں مستغرق ہوتے تھے۔
فلسفی خیالات سخت بے ثبات اور بے تمکین ہیں