پھرؔ وحی کا دریازور سے چلنے لگتا ہے اور غلطی کو درمیان سے اٹھا دیا جاتا ہے گویا اُس کا کبھی وجود نہیں تھا۔ حضرت مسیح ایک انجیر کی طرف دوڑے گئے تا اُس کا پھل کھائیں اور روح القدس ساتھ ہی تھا مگر روح القدس نے یہ اطلاع نہ دی کہ اس وقت انجیر پر کوئی پھل نہیں۔ باایں ہمہ یہ سب لوگ جانتے ہیں کہ شاذونادر معدوم کے حکم میں ہوتا ہے۔ پس جس حالت میں ہمارے سیّد ومولیٰ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس۱۰ لاکھ کے قریب قول و فعل میں سراسر خدائی کا ہی جلوہ نظر آتا ہے اور ہر بات میں حرکات میں سکنات میں اقوال میں افعال میں روح القدس کے چمکتے ہوئے انوار نظر آتے ہیں تو پھر اگر ایک آدھ بات میں بشریت کی بھی بُو آوے تو اس سے کیا نقصان۔ بلکہ ضرور تھا کہ بشریت کے تحقق کے لئے کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تا لوگ شرک کی بلا میں مبتلا نہ ہو جائیں۔
سال رہتے ہیں اور آخر ٹوٹ کر شہاب بن جاتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب آفتاب بُرج اسد میں یا میزان میں ہو تو اِن دونوں وقتوں میں کثرتِ شہب ثاقبہ کی توقع کی جاتی ہے اور اکثر ۳۳ سال کے بعد یہ دورہ ہوتا ہے لیکن یہ قاعدہ کلّی نہیں بسا اوقات اِن وقتوں سے پس و پیش بھی یہ حوادثات ظہور میں آ جاتے ہیں چنانچہ ۱۸۷۲ء میں ستاروں کا گرنا باقرار اِن ہیئت دانوں کے بالکل غیر مترقب امرتھا۔ اگرچہ ۱۴؍نومبر ۱۸۳۳ ء اور ۲۷؍نومبر ۱۸۸۵ ء کو کثرت سے یہ واقعہ ظہور میں آنا اُن کے قواعد مقررہ سے ملتا ہے لیکن تاریخ کے ٹٹولنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ نہایت فرق کے ساتھ اور ان تاریخوں سے بہت دور بھی وقوع میں آیا ہے چنانچہ دہم مارچ ۱۵۲۱ء اور ۱۹؍ جنوری ۱۱۳۵ء اور ماہ مئی ۶۱۰ء میں جو کثرت شہب ثاقبہ وقوع میں آئے اُس میں اِن تمام ہیئت دانوں کو بجُز سکتہ حیرت اور کوئی دم مارنے کی جگہ نہیں۔ اور وہ شہب ثاقبہ جو حضرت مسیح کی گرفتاری کے بعد ظہور میں آئے اور پھر ایک دُمدار ستارہ کی صورت میں ہو گئے۔ اگرچہ اب ہم پوری صحت کے ساتھ اُس کی
مسیح جس کی نسبت حال کے کم فہم مولوی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہر وقت جبرائیل اس کے ساتھ رہتا تھا ان کی اجتہادی غلطیاں انجیل کی رُو سے ثابت ہیں مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ایک قول و فعل اور حرکت اور سکون میں خدائی کا ہی جلوہ نظر آتا ہے حال کے نادان مولوی مسیح کی نسبت دوام قرب روح القدس کا صرف ایک آیت کے لحاظ سے یقین رکھتے ہیں مگر اس آیت سے وضاحت اور تفصیل اور دلالت میں بڑھ کر ہمارے نبی صلعم کے حق میں یہ آیت ہے۔ 3۱ افسوس کہ یہ آنکھوں کہ اندھے اس صاف اور صریح آیت پر نظر نہیں ڈالتے۔