یا ؔ مُشتبہ یہاں تک کہ جو کچھ آنحضرت صلعم کے خاص معاملات و مکالمات خلوت اور سرّ میں بیویوں سے تھے یا جس قدر اکل اور شرب اور لباس کے متعلق اور معاشرت کی ضروریات میں روز مرہ کے خانگی امور تھے سب اسی خیال سے احادیث میں داخل کئے گئے کہ وہ تمام کام اور کلام روح القدس کی روشنی سے ہیں چنانچہ ابو داؤد وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے اور امام احمد بچند وسائط عبداللہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ نے کہا کہ مَیں جوکچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا تھا لکھ لیتا تھا تا مَیں اُس کو حفظ کر لوں۔ پس بعض نے مجھ کو منع کیا کہ ایسا مت کر کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں کبھی غضب سے بھی کلام کرتے ہیں تو مَیں یہ بات سن کر لکھنے سے دستکش ہو گیا۔ اور اس بات کا رسول اللہ صلعم کے پاس ذکر کیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ اُس ذات کی مجھ کو قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جو مجھ سے صادر ہوتا ہے خواہ قول ہو یا فعل وہ سب خداتعالیٰ کی طرف سے ہے اگر یہ کہا وہ عنصر نار نظر نہیں آتا اور دیکھنے والے کو یہ گمان گذرتا ہے کہ گویا وہ بُجھ گیا ہے حالانکہ دراصل وہ بُجھا نہیں ہے اور یہ صورت اُس وقت پیدا ہوتی ہے کہ جب دُخان لطیف ہو لیکن اگر غلیظ ہو تو اشتعال اُس آگ کا کئی دنوں اور برسوں تک رہتا ہے اور طرح طرح کی شکلوں میں وہ روشنی جو ستارہ کے رنگ پر ہے آسمان کے جو میں نظر آتی ہے کبھی ایسا دکھائی دیتا ہے کہ گویا دُمدار ستارہ ہے اور کبھی وہ دُم زلف کی شکل پر نظر آتی ہے کبھی وہ ناری ہیکل نیزہ کی صورت میں نمودار ہوتی ہے اور کبھی ایک حیوان کی طرح جو کئی سِینگ رکھتا ہے اور کبھی یہ ناری ہیکل بصور مختلفہ ایک برس تک یا کئی برسوں تک دکھائی دیتی ہے اور کبھی یہ ناری ہیکل ٹکڑے ٹکڑے ہو کر شہب ثاقبہ کی صورت میں آ جاتی ہے اور کبھی شہب ثاقبہ اس ناری ہیکل کی شکل قبول کر لیتے ہیں جب یہ ناری ہیکل قطب شمالی کے عین کنارہ پر نظر آتی ہے تو بسا اوقات بہ نسبت اور اطراف کے بہت دیر تک رہتی ہے اور اگر مدت دراز تک جناب رسالت مآب رسول اللہ صلعم کے تمام کام اور کلام یہاں تک کہ کیا کھاتے اور کیونکر کھاتے اور کیا پہنتے اور کیونکر پہنتے اور بیویوں کے فرائض اور حقوق کیونکر ادا کرتے ایسا ہی معاشرت کی تمام باتیں صحابہؓ اس نیت سے یاد رکھتے تھے اور حفظ کر لیتے تھے کہ یہ سب وحی ہے اور آنحضرت صلعم نے بھی یہی ارشاد فرمایا تھا