اخذؔ نہ کرتے ان کی نظر تو اِس آیت پر تھی 33۔۱ اگر صحابہ تمہاری طرح مسِ شیطان کا اعتقاد رکھتے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سیّد المعصومین کیوں قرار دیتے خدا تعالیٰ سے ڈرو کیوں افترا پر کمر باندھی ہے۔
مصطفےٰ را چوں فروتر شد مقام
از مسیحِ ناصری اے طفلِ خام
آنکہ دستِ پاک او دستِ خداست
چوں تواں گفتن کہ از روحش جداست
آنکہ ہر کردار و قولش دینِ ماست
یکدم از جبریل بُعدش چوں رواست
بر امامِ انبیاء ایں افترا
چوں نمے ترسید از قہرِ خدا
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت صحابہ کا بلاشبہ یہ اعتقاد تھاکہ آنجناب کا کوئی فعل اور کوئی قول وحی کی آمیزش سے خالی نہیں گو وہ وحی مجمل ہو یا مفصل ۔ خفی ہو یا جلی۔ بیّن ہو
جو اِن امور سے بیان کئے گئے ہیں کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے۔ چنانچہ شرح اشارات میں جہاں کائنات الجوّ کے اسباب اور علل لکھے ہیں صرف اسی قدر حدوث شہب کا سبب لکھا ہے کہ جب دخان حیّز نار میں پہنچتا ہے اور اس میں کچھ دہنیت اور لطافت ہوتی ہے تو بباعث آگ کی تاثیر کے یک دفعہ بھڑک اٹھتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھڑکنے کے ساتھ ہی بُجھ گیا مگر اصل میں وہ بُجھتا نہیں۔ بات یہ ہے کہ دُخان کی دونوں طرفوں میں سے پہلے ایک طرف بھڑک اٹھتی ہے جو اوپر کی طرف ہے پھر وہ اشتعال دوسری طرف میں جاتا ہے اور اُس حرکت کے وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اُس اشتعال کا ایک خط مُمتد ہے اوراِسی کا نام شھاب ہے جو دخان کے خط مُمتد میں طرف اسفل کے قریب پیدا ہوتا ہے اور پھر جب اجزاء ارضیہ اُس دخان کی آتش خالص کی طرف مستحیل ہو جاتی ہیں تو بوجہ پیدا ہو جانے بساطت کے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کبھی صحابہ کا یہ اعتقاد نہیں ہوا کہ روح القدس آپ سے جدا بھی ہو جاتا تھا
اگر صحابہ یہ اعتقاد رکھتے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر یک قول و فعل کو حجت دین نہ ٹھہراتے۔
یونانیوں کی تحقیق کی رُو سے شہب ثاقب کی کیفیت