جنؔ لوگوں کے یہ عقائد ہوں اُن کے ہاتھ سے جس قدر دین اسلام کو اس زمانہ میں نقصان پہنچ رہا ہے کون اِس کا اندازہ کر سکتا ہے یہ لوگ چھپے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہیں چاہیئے کہ ہر یک مسلمان اور سچا عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پرہیز کرے سلف صالح کو سراسر شرارت کی راہ سے اپنے اقوال مردودہ کے ساتھ شامل کرنا چاہتے ہیں حالانکہ اپنی نابینائی کی وجہ سے سلف صالح کے اقوال کو سمجھ نہیں سکتے اور نہ احادیث نبویہ کی اصل حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں صرف دھوکہ دینے کی راہ سے کہتے ہیں کہ اگر ہمارا یہ حال ہے تو یہی عقیدہ سلف صالح کا ہے۔
اے نادانو! یہ سلف صالح کا ہرگز طریقہ نہیں۔ اگر صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ اعتقاد رکھتے کہ کبھی یا مُدتوں تک آپ سے روح القدس جدا بھی ہو جاتا تھا تو وہ ہرگز ہر یک وقت اور ہر یک زمانہ کی احادیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے
جانتا ہے کہ سب سے زیادہ غور سے اس تماشا کے دیکھنے والا اور پھر اُس سے حظّ اور لذت اٹھانے والا مَیں ہی تھا۔ میری آنکھیں بہت دیر تک اِس تماشا کے دیکھنے کی طرف لگی رہیں اور وہ سلسلہ رمی شہب کا شام سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ جس کو مَیں صرف الہامی بشارتوں کی وجہ سے بڑے سرور کے ساتھ دیکھتا رہا کیونکہ میرے دل میں الہامًا ڈالا گیا تھا کہ یہ تیرے لئے نشان ظاہر ہوا ہے۔
اور پھر اس کے بعد یورپ کے لوگوں کو وہ ستارہ دکھائی دیا جو حضرت مسیح کے ظہور کے وقت میں نکلا تھا میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ ستارہ بھی تیری صداقت کے لئے ایک دوسرا نشان ہے۔
اِس جگہ اگر یہ اعتراض پیش کیا جاوے کہ علم حکمت کے محققوں کی تحقیقات قدیمہ و جدیدہ کی رو سے شہب وغیرہ کا پیدا ہونا اور اسباب سے بیان کیا گیا ہے۔
سلف صالح کا ہرگز یہ اعتقاد نہ تھا کہ جو حال کے مولوی میاں نذیر اور بطالوی وغیرہ آنحضرت صلعم کی
نسبت رکھتے ہیں جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت توہین لازم آتی ہے۔
اس اعتراض کا جواب کہ علم حکمت کے محققوں نے
شہب ثاقبہ وغیرہ کے پیدا ہونے کی اور وجوہ لکھی ہیں